السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1857. -- باب: كراهية من كره القران، والتمتع، والبيان أن جميع ذلك جائز وإن كنا اخترنا الإفراد
-- باب: حجِ قران اور حجِ تمتع کو ناپسند کرنے والوں کی کراہت کا بیان اور اس بات کی وضاحت کہ یہ سب جائز ہے اگرچہ ہم نے حجِ افراد کو ہی اختیار کیا ہے۔
حدیث نمبر: 8877
أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الظَّفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْعَلَوِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَكَمِ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ⦗٣١⦘ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" أَنَهَيْتَ عَنِ الْمُتْعَةِ؟، قَالَ: لَا، وَلَكِنِّي أَرَدْتُ كَثْرَةَ زِيَارَةِ الْبَيْتِ، قَالَ: فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَنْ أَفْرَدَ الْحَجَّ فَحَسَنٌ، وَمَنْ تَمَتَّعَ فَقَدْ أَخَذَ بِكِتَابِ اللهِ وَسُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے تمتع سے منع کیا ہے؟ کہنے لگے کہ نہیں، بلکہ میں نے تو یہ چاہا ہے کہ بیت اللہ کی زیارت زیادہ ہو، تو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو اکیلا حج کرے تو یہ اچھا کام ہے اور جو تمتع کرلے تو وہ کتاب و سنت کی پیروی کرنے والا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8877]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8877 in Urdu