السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1922. -- باب: الاغتسال بعد الإحرام
-- باب: احرام کے بعد غسل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9132
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ اخْتَلَفَا بِالْأَبْوَاءِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ" وَقَالَ الْمِسْوَرُ:" لَا يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ"، فَأَرْسَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ الْقَرْنَيْنِ وَهُوَ يُسْتَرُ بِثَوْبٍ، قَالَ: فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ:" مَنْ هَذَا؟" فَقُلْتُ: أَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ حُنَيْنٍ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ لِيَسْأَلَكَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ؟ قَالَ: فَوَضَعَ أَبُو أَيُّوبَ يَدَهُ عَلَى الثَّوْبِ فَطَأْطَأَهُ حَتَّى بَدَا لِي رَأْسُهُ ثُمَّ قَالَ لِإِنْسَانٍ يَصُبُّ عَلَيْهِ:" اصْبُبْ" فَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ، ثُمَّ حَرَّكَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ ثُمَّ قَالَ:" هَكَذَا رَأَيْتُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ" لَفْظُ حَدِيثِ الْقَعْنَبِيِّ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ كِلَاهُمَا عَنْ مَالِكٍ.
عبداللہ بن عباس اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما نے مقامِ ابواء میں اختلاف کیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ محرم اپنا سر دھو سکتا ہے اور مسور رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہیں دھو سکتا، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، میں نے انھیں کپڑے کی اوٹ میں غسل کرتے ہوئے پایا، میں نے انھیں سلام کیا تو انھوں نے پوچھا: ”کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں عبداللہ بن حنین ہوں، مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ کے پاس یہ پوچھنے بھیجا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالتِ احرام میں کیسے سر دھوتے تھے؟ تو سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھا اور اس کو جھکایا حتیٰ کہ مجھے ان کا سر نظر آنے لگا، پھر اس شخص کو جو ان پر پانی بہا رہا تھا کہا کہ پانی ڈال، اس نے سر پر پانی ڈالا، پھر انھوں نے اپنے سر کو اپنے ہاتھوں سے ہلایا، دونوں کو آگے لے گئے، پھر واپس لائے اور کہا: ”میں نے اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9132]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1743۔ مسلم 1205»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9132 in Urdu