🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1952. -- باب: تعجيل الطواف بالبيت حين يدخل مكة والبيان أنه لا يحل به إذا كان حاجا أو قارنا
-- باب: جب مکہ میں داخل ہو تو بیت اللہ کے طواف میں جلدی کرنا، اور اس بات کا بیان کہ اگر وہ حاجی یا قارن ہو تو وہ اس (طواف) سے حلال نہیں ہوگا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9245
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ:" لَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ حَاجٌّ وَلَا غَيْرُ حَاجٍّ إِلَّا حَلَّ"، فَقُلْتُ لِعَطَاءٍ: مِنْ أَيْنَ يَقُولُ ذَلِكَ؟ قَالَ: مِنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ} [الحج: ٣٣] قُلْتُ: فَإِنَّ ذَلِكَ بَعْدَ الْمُعَرَّفِ، قَالَ: فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: مِنْ بَعْدِ الْمُعَرَّفِ وَقَبْلَهُ، وَكَانَ يَأْخُذُ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ حِينَ أَمَرَهُمْ أَنْ يَحِلُّوا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ. ⦗١٢٧⦘ قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رُوِّينَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ فَسْخَهُمُ الْحَجَّ بِالْعُمْرَةِ كَانَ خَاصًّا لِلرَّكْبِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّ غَيْرَهُمْ إِذَا حَجُّوا، أَوْ قَرَنُوا ثُمَّ طَافُوا طَوَافَ الْقُدُومِ لَمْ يَحِلُّوا حَتَّى يَكُونَ يَوْمُ النَّحْرِ، فَيَحِلِّونَ بِمَا جُعِلَ بِهِ التَّحَلُّلُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے عطاء رحمہ اللہ نے بتایا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے: حاجی اور غیر حاجی جو بھی بیت اللہ کا طواف کرے گا، وہ حلال ہوجائے گا، تو میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا کہ وہ یہ بات کیسے کہتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ﴾ [سورة الحج: 33] کی روشنی میں: «ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ» ”پھر اس کا حلال ہونا پرانے گھر کی طرف ہے“، میں نے کہا: یہ تو عرفہ کے بعد کی بات ہے، انہوں نے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے: عرفہ سے پہلے بھی اور بعد بھی، اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے صحابہ کو حلال ہونے کا حکم دینے سے دلیل پکڑتے تھے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، پھر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ان کا حج کو عمرہ کے ساتھ فسخ کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوار صحابہ کے لیے خاص تھا، ان کے علاوہ دوسروں نے حج کیا یا حجِ قران کیا، پھر طوافِ قدوم کیا، پھر وہ یومِ نحر سے پہلے حلال نہیں ہوئے۔ پھر وہ ان کاموں کے ساتھ حلال ہوئے جن سے محرم حلال ہوجاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9245]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1245»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9245 in Urdu