السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1999. -- باب: الخطبة يوم عرفة بعد الزوال والجمع بين الظهر، والعصر بأذان وإقامتين
-- باب: یومِ عرفہ کو زوال کے بعد خطبہ دینے، اور ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ ظہر اور عصر کو جمع کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9454
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو الْمُقْرِئُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْوَرَّاقُ قَالَا: أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا: ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنُزُولِهِ بِنَمِرَةَ، قَالَ:" حَتَّى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِالْقَصْوَى فَرُحِّلَتْ لَهُ فَرَكِبَ حَتَّى أَتَى بَطْنَ الْوَادِي، فَخَطَبَ النَّاسَ" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي خُطْبَتِهِ كَمَا مَضَى فِي هَذَا الْحَدِيثِ حَيْثُ أَخْرَجْنَاهُ بِسِيَاقِهِ مِنْ هَذَا الْكِتَابِ، قَالَ:" ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج والی حدیث بیان کی اور نمرہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اترنا بیان کیا ہے، حتیٰ کہ جب سورج ڈھل گیا، انہوں نے قصواء کا حکم دیا، اس پر کجاوا کسا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے، حتیٰ کہ وادی کے درمیان میں آئے، لوگوں کو خطبہ دیا، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، پھر ظہر کی اقامت کہی اور نماز پڑھی، پھر اقامت کہی تو عصر کی نماز پڑھائی اور ان دونوں کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9454]
تخریج الحدیث: «منكر 121»
الحكم على الحديث: منكر 121
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9454 in Urdu