السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2002. -- باب: وقت الوقوف لإدراك الحج
-- باب: حج پانے کے لیے وقوفِ عرفہ کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 9468
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ زَكَرِيَّا يَعْنِي ابْنَ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامَ أَنَّهُ حَجَّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدْرَكَ النَّاسَ وَهُمْ بِجَمْعٍ فَانْطَلَقَ إِلَى عَرَفَاتٍ لَيْلًا فَأَفَاضَ مِنْهَا، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى جَمْعٍ فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَتْعَبْتُ نَفْسِي، وَأَنْصَبْتُ رَاحِلَتِي فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى مَعَنَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ، وَوَقَفَ مَعَنَا حَتَّى نُفِيضَ وَقَدْ ⦗١٨٩⦘ أَتَى عَرَفَاتٍ قَبْلَ ذَلِكَ لَيْلًا، أَوْ نَهَارًا فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ".
سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں حج کیا تو لوگوں کو جمع میں پایا۔ وہ رات کے وقت عرفات گئے، وہاں سے لوٹے حتیٰ کہ جمع آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اپنے آپ کو اور اپنی اونٹنی کو تھکایا ہے تو کیا میرے لیے حج ہے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہمارے ساتھ صبح کی نماز پڑھی اور ہمارے ساتھ ٹھہرا حتیٰ کہ ہم واپس آئے اور اس سے پہلے عرفات میں رات کو آیا یا دن کو تو اس کا حج پورا ہو گیا اور اس نے اپنا میل کچیل دور کر لیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9468]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ نسائي 3041۔ ابن ماجه 3016»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9468 in Urdu