🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2064. -- باب: من كره أن يقال للذي لم يحج: صرورة
-- باب: ان کا بیان جنہوں نے حج نہ کرنے والے کو ”صرورہ“ کہنے کو مکروہ قرار دیا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9769
وَرَوَاهُ عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُقَالَ لِلْمُسْلِمِ: صَرُورَةٌ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَارِثُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ، ثنا طَاهِرُ بْنُ خَالِدِ بْنِ نِزَارٍ، ثنا أَبِي، ثنا عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ فَذَكَرَهُ وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا وَرَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ مِنْ قَوْلِهِ وَنَفَى أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَوْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاللهُ أَعْلَمُ. وَفِي رِوَايَةُ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ:" كَانَ الرَّجُلُ يَلْطِمُ الرَّجُلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَيَقُولُ: إِنِّي صَرُورَةٌ فَيُقَالُ لَهُ دَعُوا الصَّرُورَةَ لِجَهْلِهِ وَإنْ رُمِيَ بِجَعْرِهِ فِي رِجْلِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا صَرُورَةَ فِي الْإِسْلَامِ" وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: يَلْطِمُ وَجْهَ الرَّجُلِ ثُمَّ يَقُولُ: إِنِّي صَرُورَةٌ فَيُقَالُ: رُدُّوا صَرُورَةَ وَجْهِهِ وَلَوْ أَلْقَى سَلْحَهُ فِي رِجْلِهِ، ⦗٢٧٠⦘ وَرُوِيَ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ تَارَةً، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، وَتَارَةً عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَتَارَةً عَنِ ابْنِ أَخِي جُبَيْرٍ، وَتَارَةً عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ أُرَاهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا صَرُورَةَ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ ”مسلمان کو «صَرُورٌ» (صرور) کہا جائے“، اسی کو سفیان بن عیینہ نے عمرو عکرمہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کیا ہے۔ ابن جریج نے عکرمہ کا قول بنا کر نقل کیا ہے اور اس بات سے انکار کیا ہے کہ یہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے اور ابن عیینہ وغیرہ کی روایت میں عکرمہ سے منقول ہے کہ آدمی جاہلیت میں دوسرے کو تھپڑ مارتا اور کہتا میں «صَرُورَةٌ» (بندھا ہوا) ہوں تو اس کو کہا جاتا: اس کی جہالت کے لیے بندھا رہنے دو، خواہ وہ اپنی لید اپنے پاؤں پر ہی مار لے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں «لَا صَرُورَةَ» (بندھا رہنا) نہیں ہے۔“ ایک دوسری روایت میں ہے کہ آدمی اپنے چہرے پر مارتا، پھر کہتا کہ میں بندھا ہوا ہوں تو کہا جاتا: اس کے چہرے کو بندھا رہنے دو خواہ یہ اپنا گوبر اپنے پاؤں پر گرا لے۔
نافع بن جبیر (غالباً اپنے والد سے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ: ”عمرہ قیامت تک کے لیے حج میں داخل ہو گیا ہے، «لَا صَرُورَةَ» (بندھنا) نہیں ہے۔“
عمر بن قیس، جس نے اسے عمرو بن دینار سے ابن عباس تک متصل روایت کیا ہے، قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9769]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9769 in Urdu