السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2069. -- باب: التخيير في فدية الأذى
-- باب: فدیہِ اذیٰ (تکلیف پہنچنے کے فدیے) میں اختیار دیے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9794
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا فَآذَاهُ الْقُمَّلُ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ ⦗٢٧٧⦘ وَقَالَ:" صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ مُدَّيْنِ مُدَّيْنِ أَوِ انْسُكْ شَاةً أِيَّ ذَلِكَ فَعَلْتَ أَجْزَأَ عَنْكَ" هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ، وَقَدْ رَوَاهُ مَالِكٌ مَرَّةً أُخْرَى، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى دُونَ ذِكْرِ مُجَاهِدٍ فِي إِسْنَادِهِ.
عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام کی حالت میں تھے، جوؤں نے ان کو تکلیف دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سر منڈوانے کا حکم دے دیا اور فرمایا: ”تین دن کے روزے رکھ یا چھ مساکین کو دو دو مد کھانا دو یا ایک بکری قربان کرو، جو سا کام بھی آپ نے کر لیا آپ سے کفایت کر جائے گا۔“
یہی (سند) صحیح ہے، اور امام مالک نے اسے ایک دوسری مرتبہ عبدالکریم جزری سے، انہوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے، اس کی سند میں مجاہد کا ذکر کیے بغیر روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9794]
یہی (سند) صحیح ہے، اور امام مالک نے اسے ایک دوسری مرتبہ عبدالکریم جزری سے، انہوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے، اس کی سند میں مجاہد کا ذکر کیے بغیر روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9794]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 938»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9794 in Urdu