🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2069. -- باب: التخيير في فدية الأذى
-- باب: فدیہِ اذیٰ (تکلیف پہنچنے کے فدیے) میں اختیار دیے جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9793
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا السَّكَنُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: فِيَّ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي:" ادْنُ" فَدَنَوْتُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَقَالَ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟" أَظُنُّهُ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَقَالَ أَيُّوبُ، عَنْ مُجَاهِدٍ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ" فَأَمَرَنِي بِصَوْمٍ أَوْ بِصَدَقَةٍ، أَوْ بِنُسُكٍ مَا تَيَسَّرَ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَفَسَّرَ لِي مُجَاهِدٌ فَنَسِيتُ فَأَنْبَأَنِي أَيُّوبُ أَنَّهُ سَمِعَهُ عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، أَوْ صَدَقَةُ سِتَّةِ مَسَاكِينَ، أَوْ نُسُكُ شَاةٍ، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ.
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ، حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہو جاؤ۔“ میں دو یا تین مرتبہ قریب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تجھے تیری جوئیں تکلیف دے رہی ہیں؟“ میں یہی گمان کرتا ہوں کہ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔“
(ب) ایوب، مجاہد سے یہ الفاظ نقل فرماتے ہیں کہ ”کیا تجھے تیرے سر کی جوؤں نے تکلیف دی ہے؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روزہ، صدقہ یا قربانی کا حکم دیا جو بھی میسر ہو۔ ابن عون کہتے ہیں کہ مجاہد نے مجھے تفسیر بیان کی تھی لیکن میں بھول گیا۔ ایوب نے مجھے خبر دی کہ اس نے مجاہد سے سنا کہ تین دن کے روزے یا چھ مساکین کو صدقہ یا ایک بکری کی قربانی دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9793]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1720۔ مسلم 1201»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9794
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا فَآذَاهُ الْقُمَّلُ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ ⦗٢٧٧⦘ وَقَالَ:" صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ مُدَّيْنِ مُدَّيْنِ أَوِ انْسُكْ شَاةً أِيَّ ذَلِكَ فَعَلْتَ أَجْزَأَ عَنْكَ" هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ، وَقَدْ رَوَاهُ مَالِكٌ مَرَّةً أُخْرَى، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى دُونَ ذِكْرِ مُجَاهِدٍ فِي إِسْنَادِهِ.
عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام کی حالت میں تھے، جوؤں نے ان کو تکلیف دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سر منڈوانے کا حکم دے دیا اور فرمایا: ”تین دن کے روزے رکھ یا چھ مساکین کو دو دو مد کھانا دو یا ایک بکری قربان کرو، جو سا کام بھی آپ نے کر لیا آپ سے کفایت کر جائے گا۔“
یہی (سند) صحیح ہے، اور امام مالک نے اسے ایک دوسری مرتبہ عبدالکریم جزری سے، انہوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے، اس کی سند میں مجاہد کا ذکر کیے بغیر روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9794]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 938»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9795
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍٍ، ثنا مَالِكٌ، فَذَكَرُوهُ بِنَحْوِهِ دُونَ ذِكْرِ مُجَاهِدٍ فِي إِسْنَادِهِ، وَفِي بَعْضِ هَذِهِ الْعَرْضَاتِ سَمِعَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي جَمَاعَةٍ مِنْ أَصْحَابِ الْمُوَطَّأِ دُونَ الْعَرْضَةِ الَّتِي شَهِدَهَا ابْنُ وَهْبٍ ثُمَّ إنَّ الشَّافِعِيَّ تَنَبَّهَ لَهُ فِي رِوَايَةِ الْمُزَنِيِّ، وَابْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ عَنْهُ، فَقَالَ: غَلَطَ مَالِكٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، الْحُفَّاظُ حَفِظُوهُ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ الشَّيْخُ: وَإِنَّمَا غَلَطَ فِي هَذَا بَعْضَ الْعَرْضَاتِ وَقَدْ رَوَاهُ فِي بَعْضِهَا عَلَى الصِّحَّةِ، وَرَوَاهُ أَيْضًا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبٍ، وَرَوَيْنَا فِيمَا مَضَى مِنْ حَدِيثِ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ فِيهِ:" ثَلَاثَةُ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ"، وَفِي حَدِيثِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ" فَرَقًا مِنْ زَبِيبٍ"، وَمِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ كَعْبٍ:" لِكُلِّ مِسْكِينٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ طَعَامٍ".
عبدالرحمن بن لیلیٰ رحمہ اللہ سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اس میں ہے کہ ”تین صاع کھجور کے۔“
(ب) حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ حضرت عبدالرحمن رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”ایک فرق (یہ پیمانہ ہے) خشک انگور سے۔“
(ج) عبداللہ بن معقل رحمہ اللہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”ہر مسکین کے لیے نصف صاع کھانے کا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام مالک کو اس حدیث (کی سند سے مجاہد کو چھوڑنے) میں غلطی لگی ہے، حفاظ نے اسے عبدالکریم سے، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے محفوظ کیا ہے۔ شیخ فرماتے ہیں: امام مالک سے یہ غلطی (موطا کی) بعض پیشیوں میں ہوئی ہے، جبکہ بعض میں انہوں نے اسے درست روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9795]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 937»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں