السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2077. -- باب: خطأ الناس يوم عرفة
-- باب: یومِ عرفہ (کے تعین) میں لوگوں سے غلطی ہو جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9829
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: رَجُلٌ حَجَّ أَوَّلَ مَا حَجَّ، فَأَخْطَأَ النَّاسَ بِيَوْمِ النَّحْرِ أَيُجْزِئُ عَنْهُ؟ قَالَ: نَعَمْ أَيْ لَعَمْرِي إِنَّهَا لَتُجْزِيءُ عَنْهُ، ⦗٢٨٧⦘ قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِطْرُكُمْ يَوْمَ تُفْطِرُونَ وَأَضْحَاكُمْ يَوْمَ تُضَحُّونَ" - وَأُرَاهُ قَالَ -:" وَعَرَفَةُ يَوْمَ تُعَرِّفُونَ".
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عطا رحمہ اللہ سے کہا: ایک شخص نے پہلی مرتبہ حج کیا، پھر لوگوں سے «يَوْمَ النَّحْرِ» یعنی قربانی کے دن (کی تعیین) میں غلطی ہو گئی، کیا یہ اس سے کفایت کر جائے گا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، میری عمر کی قسم! اس سے کفایت کر جائے گا۔ میرا گمان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری عید الفطر کا دن وہ ہے جس دن تم افطار کرو اور تمہاری عید الاضحی کا دن جب تم قربانی کرو۔“ اور میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور عرفہ کا وہ دن ہے جب لوگ قیام کریں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9829]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الشافعي في لام 1/ 382»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9829 in Urdu