السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2078. -- باب: دخول مكة بغير إرادة حج ولا عمرة
-- باب: حج یا عمرے کے ارادے کے بغیر مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: Q9830
قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَأَمْنًا} [البقرة: 125] الْآيَةَ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: الْمَثَابَةُ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ الْمَوْضِعُ يَثُوبُ النَّاسُ إِلَيْهِ وَيَؤُبُونَ يَعُودُونَ إِلَيْهِ بَعْدَ الذَّهَابِ عَنْهُ، وَقَدْ يُقَالُ: ثَابَ إِلَيْهِ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ.
اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَأَمْنًا﴾ ”اور (یاد کرو) جب ہم نے اس گھر کو لوگوں کے لیے بار بار لوٹنے کی جگہ اور امن کا مقام بنایا۔“ [سورة البقرة: 125] (آخر آیت تک)۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عرب کے کلام میں لفظ «الْمَثَابَةُ» سے مراد وہ جگہ ہے جہاں لوگ بار بار لوٹ کر آتے ہیں اور وہاں سے جانے کے بعد پھر لوٹتے ہیں، اور یوں بھی کہا جاتا ہے: «ثَابَ إِلَيْهِ» یعنی وہ اس جگہ مجتمع ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: Q9830]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عرب کے کلام میں لفظ «الْمَثَابَةُ» سے مراد وہ جگہ ہے جہاں لوگ بار بار لوٹ کر آتے ہیں اور وہاں سے جانے کے بعد پھر لوٹتے ہیں، اور یوں بھی کہا جاتا ہے: «ثَابَ إِلَيْهِ» یعنی وہ اس جگہ مجتمع ہو گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: Q9830]
حدیث نمبر: 9830
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّقَّاءِ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ بَطَّةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَكَرِيَّا، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ أَبِي الْحَجَّاجِ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَأَمْنًا} [البقرة: ١٢٥] قَالَ:" يَثُوبُونَ إِلَيْهِ، وَيَذْهَبُونَ وَيَرْجِعُونَ لَا يَقْضُونَ مِنْهُ وَطَرًا".
ابو حجاج مجاہد بن جبر رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَأَمْنًا﴾ [سورة البقرة: 125] کے بارے میں منقول ہے: ”اور جب ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے لوٹنے کی جگہ (یا ثواب کی جگہ) اور امن کی جگہ بنایا۔“ فرماتے ہیں: وہ اس کی طرف لوٹ کر آتے ہیں، جاتے ہیں اور واپس آتے ہیں لیکن ان کا دل اس سے نہیں بھرتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9830]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن جرير في تفسيره 1/ 580»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9830 in Urdu