🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
221. -- باب: كيف التيمم
-- باب: تیمم کی کیفیت (طریقے) کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 992
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنِ ابْنِ الصِّمَّةِ، قَالَ:" مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ حَتَّى قَامَ إِلَى جِدَارٍ، فَحَتَهُ بِعَصًا كَانَتْ مَعَهُ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى الْجِدَارِ، فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيَّ". وَهَذَا شَاهِدٌ لِرِوَايَةِ أَبِي صَالِحٍ كَاتَبِ اللَّيْثِ إِلَّا أَنَّ هَذَا مُنْقَطِعٌ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزٍ الْأَعْرَجُ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنَ ابْنِ الصِّمَّةِ، إِنَّمَا سَمِعَهُ مِنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ الصِّمَّةِ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى الْأَسْلَمِيِّ، وَأَبُو الْحُوَيْرِثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: قَدِ اخْتَلَفَ الْحُفَّاظُ فِي عَدَالَتِهِمَا إِلَّا أَنَّ لِرِوَايَتِهِمَا بِذِكْرِ الذِّرَاعَيْنِ فِيهِ شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ.
سیدنا ابن صمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا۔ پھر آپ دیوار کی طرف کھڑے ہوئے، اس کو لکڑی کے ساتھ کریدا جو آپ کے پاس تھی، پھر اپنے ہاتھ دیوار پر رکھے، اپنے چہرے اور بازوؤں کا مسح کیا، پھر سلام کا جواب دیا۔
(ب) یہ روایت ابو صالح کاتبِ لیث کی روایت کے لیے شاہد ہے مگر منقطع ہے، عبدالرحمن بن ہرمز اعرج نے اسے ابن صمہ سے نہیں سنا، بلکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام عمیر کے واسطے سے ابن صمہ سے سنا ہے۔
(ج) ابراہیم بن محمد بن ابی یحییٰ اسلمی اور ابو حویرث عبدالرحمن بن معاویہ دونوں کے عادل ہونے میں محدثین کا اختلاف ہے؛ مگر بازوؤں کے ذکر والی ان کی روایت کے لیے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث شاہد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 992]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ جدًا أخرجه الشافعي 31»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 992 in Urdu