🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2105. -- باب: ما ورد في سلب من قطع من شجر حرم المدينة أو أصاب فيه صيدا
-- باب: اس شخص کا سامان چھین لینے کے بارے میں جو وارد ہوا ہے جو حرمِ مدینہ کا درخت کاٹے یا اس میں کوئی شکار کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9974
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ، حَدَّثَنِي بَعْضُ وَلَدِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَخَذْتُمُوهُ يَقْطَعُ مِنَ الشَّجَرِ شَيْئًا، يَعْنِي ⦗٣٢٧⦘ شَجَرَ حَرَمِ الْمَدِينَةِ فَلَكُمْ سَلَبُهُ، لَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يُقْطَعُ" قَالَ: فَرَأَى سَعْدٌ غِلْمَانًا يَقْطَعُونَ فَأَخَذَ مَتَاعَهُمْ فَانْتَهُوا إِلَى مَوَالِيهِمْ فَأَخْبَرُوهُمْ أَنَّ سَعْدًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَعَلَ كَذَا وَكَذَا، فَأَتَوْهُ فَقَالُوا: يَا أَبَا إِسْحَاقَ إِنَّ غِلْمَانَكَ أَوْ مَوَالِيَكَ أَخَذُوا مَتَاعَ غِلْمَانِنَا، قَالَ: بَلْ أَنَا أَخَذْتُهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ أَخَذْتُمُوهُ يَقْطَعُ مِنْ شَجَرِ الْحَرَمِ فَلَكُمْ سَلَبُهُ" وَلَكِنْ سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ.
سعد کی اولاد سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے نقل کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو تم پکڑ لو کہ وہ حرمِ مدینہ سے درخت کاٹ رہا ہے، اس کی سلب یعنی سامان تمہارے لیے ہے۔ اس کے درختوں کا کاٹنا یا اکھاڑنا درست نہیں ہے۔“ راوی فرماتے ہیں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کچھ غلاموں کو درخت کاٹتے ہوئے پایا تو ان کا سامان لے لیا، وہ اپنے آقاؤں کے پاس گئے اور انہیں خبر دی کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اس طرح کیا ہے۔ وہ آئے اور انہوں نے کہا: اے ابو اسحاق! آپ کے غلاموں یا آزاد کردہ غلاموں نے ہمارے غلاموں کا سامان چھین لیا ہے؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: بلکہ میں نے ہی چھینا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ: ”جس کو تم پکڑ لو کہ وہ حرم کے درخت کاٹ رہا ہو تو، اس کا سامان تمہارے لیے ہے“، لیکن تم میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے مانگ لو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9974]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9974 in Urdu