السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2105. -- باب: ما ورد في سلب من قطع من شجر حرم المدينة أو أصاب فيه صيدا
-- باب: اس شخص کا سامان چھین لینے کے بارے میں جو وارد ہوا ہے جو حرمِ مدینہ کا درخت کاٹے یا اس میں کوئی شکار کرے۔
حدیث نمبر: 9975
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي عَلِيٍّ السَّقَّاءُ قَالَا: أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ يَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ فَيَجِدُ الْحَاطِبَ مَعَهُ شَجَرٌ رَطْبٌ قَدْ عَضَدَهُ مِنْ بَعْضِ شَجَرِ الْمَدِينَةِ فَيَأْخُذُ سَلَبَهُ فَيُكَلَّمُ فِيهِ فَيَقُولُ:" لَا أَدَعُ غَنِيمَةً غَنَّمَنِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ:" وَإِنِّي لَمِنْ أَكْثَرِ النَّاسِ مَالًا" أَبُوهُ إِسْحَاقُ بْنُ الْحَارِثِ الْقُرَشِيُّ.
عامر بن سعد اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ مدینہ سے نکلتے تو کسی لکڑہارے کو پاتے جس کے پاس تر درخت ہوتا جو اس نے مدینہ کے درختوں میں سے کاٹا ہوتا، تو وہ اس کا سامان لے لیتے، اس کے بارے میں ان سے بات کی جاتی تو وہ کہتے: میں مالِ غنیمت نہ چھوڑوں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا کیا ہے، اور فرمایا: اگرچہ میں لوگوں میں سے سب سے زیادہ مال والوں میں سے ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9975]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 2037»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9975 in Urdu