مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
53. بَابٌ فِيمَنْ كَانَ عَلَى طَهَارَةٍ وَشَكَّ فِي الْحَدَثِ .
جو شخص با وضو ہو اور پھر اُسے حدث کے بارے میں شک ہو جائے شک ہو جائے
حدیث نمبر: 1251
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ فِي صِلَاتِهِ، فَيَأْخُذُ شَعْرَةً مِنْ دُبُرِهِ، فَيَرَى أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ. فَلَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ إِلَّا أَنَّهُ مُدَلِّسٌ، وَلَمْ يُصَرِّحْ بِالسَّمَاعِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ إِلَّا أَنَّهُ مُدَلِّسٌ، وَلَمْ يُصَرِّحْ بِالسَّمَاعِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: شیطان کسی شخص کے پاس، اُس کی نماز کے دوران آتا ہے، اور اس کی پچھلی شرمگاہ کا بال پکڑتا ہے، تو آدمی کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ شاید اُسے حدث لاحق ہو گیا ہے (اس طرح کی صورتحال میں) آدمی اس وقت تک نماز ختم نہ کرے، جب تک وہ (ہوا خارج ہونے کی) آواز نہیں سن لیتا، یا بو محسوس نہیں کر لیتا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے، وہ ثقہ ہے، لیکن تدلیس کرنے والا ہے (اور اس روایت میں بھی) اُس نے سماع کی صراحت نہیں کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1251]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے، وہ ثقہ ہے، لیکن تدلیس کرنے والا ہے (اور اس روایت میں بھی) اُس نے سماع کی صراحت نہیں کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1251]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
Majma al-Zawa'id Hadith 1251 in Urdu