مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
53. بَابٌ فِيمَنْ كَانَ عَلَى طَهَارَةٍ وَشَكَّ فِي الْحَدَثِ .
جو شخص با وضو ہو اور پھر اُسے حدث کے بارے میں شک ہو جائے شک ہو جائے
حدیث نمبر: 1246
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ فِي الصَّلَاةِ جَاءَهُ الشَّيْطَانُ فَأَبَسَ بِهِ كَمَا يَأْبِسُ بِدَابَّتِهِ، فَإِذَا سَكَنَ لَهُ أَضْرَطَ بَيْنَ أَلْيَتَيْهِ لِيَفْتِنَهُ عَنْ صَلَاتِهِ، فَإِذَا وَجَدَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَلَا يَنْصَرِفُ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَهُوَ عَنْ أَبِي دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَهُوَ عَنْ أَبِي دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”جب کوئی شخص نماز ادا کر رہا ہو، تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اُسے ڈراتا ہے، جس طرح آدمی اپنے جانوروں کو ڈراتا ہے، اگر وہ شخص پرسکون رہے، تو شیطان اس کی سرین کے درمیان ہوا خارج کرتا ہے، تاکہ اس شخص کی توجہ نماز سے ہٹ جائے، جب کوئی شخص اس طرح کی صورتحال پائے، تو وہ نماز اُس وقت تک ختم نہ کرے، جب تک وہ (اپنی ہوا خارج ہونے کی) آواز نہیں سنتا، یا بو محسوس نہیں کرتا“۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، یہ امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے، امام أحمد کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1246]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، یہ امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے، امام أحمد کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1246]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 1247
وَبِسَنَدِهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ فِي الْمَسْجِدِ جَاءَهُ الشَّيْطَانُ، فَأَبَسَ مِنْهُ كَمَا يَأْبِسُ الرَّجُلُ بِدَابَّتِهِ، فَإِذَا سَكَنَ لَهُ زَنَقَهُ أَوْ أَلْجَمَهُ".
قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَأَنْتُمْ تَرَوْنَ ذَلِكَ، أَمَّا الْمَزْنُوقُ فَتَرَاهُ مَائِلًا، وَأَمَّا الْمَلْجُومُ فَتَرَاهُ فَاتِحًا فَاهُ لَا يَذْكُرُ اللَّهَ.
قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَأَنْتُمْ تَرَوْنَ ذَلِكَ، أَمَّا الْمَزْنُوقُ فَتَرَاهُ مَائِلًا، وَأَمَّا الْمَلْجُومُ فَتَرَاهُ فَاتِحًا فَاهُ لَا يَذْكُرُ اللَّهَ.
اسی سند کے ساتھ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے: وہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص مسجد میں ہوتا ہے، تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اُسے یوں ڈراتا ہے، جس طرح کوئی شخص اپنے جانور کو ڈراتا ہے، اور جب وہ شخص اُس کے سامنے پر سکون رہتا ہے، تو وہ یا تو اسے تنگی کا شکار کرتا ہے یا اُسے لگام ڈال دیتا ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تو تم لوگ یہ صورتحال پاتے ہو، کوئی شخص ہوتا ہے جو مائل ہو رہا ہوتا ہے، اور جس شخص کو لگام ڈالی گئی ہوتی ہے، یہ وہ شخص ہے، جسے تم دیکھتے ہو کہ اُس نے اپنا منہ کھولا ہوا ہوتا ہے، اور وہ اللہ کا ذکر نہیں کرتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1247]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 1248
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ فِي صِلَاتِهِ أَنَّهُ أَحْدَثَ فِي صِلَاتِهِ وَلَمْ يُحْدِثْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ وَهُوَ فِي صِلَاتِهِ، حَتَّى يَفْتَحَ مَقْعَدَتَهُ فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ أَحْدَثَ وَلَمْ يُحْدِثْ، فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلَا يَنْصَرِفُ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتَ ذَلِكَ بِأُذُنِهِ، أَوْ يَجِدَ رِيحَ ذَلِكَ بِأَنْفِهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا، جسے نماز کے دوران یہ محسوس ہوتا ہے، کہ اُس کا وضو ٹوٹ گیا ہے، حالانکہ اس کا وضو نہیں ٹوٹا ہوتا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شیطان تم میں سے کسی شخص کے پاس آتا ہے، جب وہ شخص نماز ادا کر رہا ہوتا ہے، یہاں تک کہ شیطان اس کے مقعد کو کھولتا ہے، تو آدمی کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اُسے حدث لاحق ہو گیا ہے، حالانکہ اُسے حدث لاحق نہیں ہوا ہوتا ہے، جو شخص اس طرح کی صورتحال پائے، وہ اس وقت تک نماز ختم نہ کرے، جب تک اپنے کان کے ذریعے (ہوا خارج ہونے کی) آواز نہیں سن لیتا، یا ناک کے ذریعے اُس کی بو محسوس نہیں کر لیتا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے، اس روایت کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1248]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے، اس روایت کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1248]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 1249
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ وَهُوَ فِي صِلَاتِهِ، فَيَمُدُّ شَعْرَةً مِنْ دُبُرِهِ، فَيَرَى أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ. فَلَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا".
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى - وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ - وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى - وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ - وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”شیطان تم میں سے کسی ایک کے پاس اس وقت آتا ہے، جب وہ شخص نماز ادا کر رہا ہوتا ہے، پھر وہ اُس کی پچھلی شرمگاہ کے پاس کے بال کو کھینچتا ہے، تو آدمی کو یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے اُسے حدث لاحق ہو گیا ہے، (ایسا) آدمی نماز اُس وقت تک ختم نہ کرے جب تک وہ (ہوا خارج ہونے کی) آواز نہیں سن لیتا، یا بو محسوس نہیں کرتا“۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اسے امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1249]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اسے امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1249]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1250
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ قَالَ: رَأَيْتُ السَّائِبَ بْنَ خَبَّابٍ يَشُمُّ ثَوْبَهُ، فَقُلْتُ: مِمَّ ذَلِكَ رَحِمَكَ اللَّهُ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" لَا وُضُوءَ إِلَّا مِنْ رِيحٍ أَوْ سَمَاعٍ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ، وَلَمْ أَرَ أَحَدًا وَثَّقَهُ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ، وَلَمْ أَرَ أَحَدًا وَثَّقَهُ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
محمد بن عمرو بن عطاء بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا سائب بن خباب رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ اپنا کپڑا سونگھ رہے تھے، میں نے دریافت کیا: اس کی وجہ کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے! انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”وضو (ہوا خارج ہونے کی) بو (محسوس کرنے، یا آواز) سننے پر لازم ہوتا ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف الحدیث ہے، میں نے کسی کو اُس کی توثیق کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1250]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف الحدیث ہے، میں نے کسی کو اُس کی توثیق کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1250]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1251
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ فِي صِلَاتِهِ، فَيَأْخُذُ شَعْرَةً مِنْ دُبُرِهِ، فَيَرَى أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ. فَلَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ إِلَّا أَنَّهُ مُدَلِّسٌ، وَلَمْ يُصَرِّحْ بِالسَّمَاعِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ إِلَّا أَنَّهُ مُدَلِّسٌ، وَلَمْ يُصَرِّحْ بِالسَّمَاعِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: شیطان کسی شخص کے پاس، اُس کی نماز کے دوران آتا ہے، اور اس کی پچھلی شرمگاہ کا بال پکڑتا ہے، تو آدمی کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ شاید اُسے حدث لاحق ہو گیا ہے (اس طرح کی صورتحال میں) آدمی اس وقت تک نماز ختم نہ کرے، جب تک وہ (ہوا خارج ہونے کی) آواز نہیں سن لیتا، یا بو محسوس نہیں کر لیتا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے، وہ ثقہ ہے، لیکن تدلیس کرنے والا ہے (اور اس روایت میں بھی) اُس نے سماع کی صراحت نہیں کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1251]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے، وہ ثقہ ہے، لیکن تدلیس کرنے والا ہے (اور اس روایت میں بھی) اُس نے سماع کی صراحت نہیں کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1251]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1252
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيُطِيفُ بِالرَّجُلِ فِي صِلَاتِهِ لِيَقْطَعَ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ، فَإِذَا أَعْيَاهُ نَفَخَ فِي دُبُرِهِ، فَإِذَا أَحَسَّ أَحَدُكُمْ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا. فَلَا يَنْصَرِفُ حَتَّى يَجِدَ رِيحًا أَوْ يَسْمَعَ صَوْتًا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: شیطان آدمی کی نماز کے دوران، اُس کے پاس چکر لگاتا ہے، تاکہ اس کی نماز خراب کر دے، جب آدمی اُسے تھکا دیتا ہے، تو وہ آدمی کی شرمگاہ میں پھونک مارتا ہے (جس سے آدمی کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید اُس کا وضو ٹوٹ گیا ہے) جب تم میں سے کوئی شخص اس طرح کی صورتحال محسوس کرے، تو وہ نماز اُس وقت تک ختم نہ کرے، جب تک وہ بو محسوس نہیں کرتا، یا آواز نہیں سن لیتا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1252]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1252]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 1253
وَعَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ (عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ) قَالَ: الْوُضُوءُ مِمَّا خَرَجَ، وَلَيْسَ مِمَّا دَخَلَ. وَالصَّوْمُ مِمَّا دَخَلَ وَلَيْسَ مِمَّا خَرَجَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
وائل بن داؤد نے، ابراہیم نخی کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا ہے: ”وضو اس چیز سے لازم ہوتا ہے، جو (انسان کے جسم سے) خارج ہوتی ہے، اُس سے لازم نہیں ہوتا، جو داخل ہوتی ہے اور روزہ (اُس چیز سے ٹوٹ جاتا ہے، جو انسان کے جسم میں) داخل ہوتی ہے، اُس سے نہیں ٹوٹتا، جو خارج ہوتی ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1253]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1253]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن