مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
56. بَابُ فِيمَنْ مَسَّ فَرْجَهُ .
اس شخص کا بیان جو اپنی شرمگاہ کو چھو لیتا ہے (یعنی کیا اُس کا وضو ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟)
حدیث نمبر: 1271
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنْ بُسْرَةَ بِنْتَ صَفْوَانَ بْنِ نَوْفَلٍ سَأَلَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْمَرْأَةِ تَضْرِبُ بِيَدِهَا فَتُصِيبُ فَرْجَهَا، فَقَالَ:" تَوَضَّأُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمِّلِ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَيَحْيَى فِي رِوَايَةٍ، وَوَثَّقَهُ فِي أُخْرَى، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمِّلِ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَيَحْيَى فِي رِوَايَةٍ، وَوَثَّقَهُ فِي أُخْرَى، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدہ بسرہ بنت صفوان بن نوفل رضی اللہ عنہا نے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی عورت کے بارے میں دریافت کیا، جو ہاتھ لگاتی ہے، تو اس کا ہاتھ شرمگاہ کو لگ جاتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ وضو کرے گی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مؤمل ہے، جسے امام أحمد نے، اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ”ضعیف“ قرار دیا ہے، دوسری روایت کے مطابق یحیی نے اسے ”ثقہ“ قرار دیا ہے، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ”الثقات“ میں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1271]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مؤمل ہے، جسے امام أحمد نے، اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ”ضعیف“ قرار دیا ہے، دوسری روایت کے مطابق یحیی نے اسے ”ثقہ“ قرار دیا ہے، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ”الثقات“ میں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1271]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
Majma al-Zawa'id Hadith 1271 in Urdu