مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
71. بَابُ تَخْيِيرِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ
نبی اکرم ﷺ کو دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا جانا
حدیث نمبر: 14249
وَعَنْ أَبِي وَاقَدٍ اللِّيثِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُيِّرَ عَبْدٌ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ بَيْنَ الدُّنْيَا وَمُلْكِهَا وَنَعِيمِهَا وَبَيْنَ الْآخِرَةِ، فَاخْتَارَ الْآخِرَةَ". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: بَلْ نَفْدِيكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَمْوَالِنَا وَأَنْفُسِنَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے کو، دنیا اس کی بادشاہی، اس کی نعمتوں اور آخرت کے درمیان اختیار دیا گیا، تو اس نے آخرت کو اختیار کر لیا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم اپنے اموال اور جانیں آپ کے فدیے میں دے دیں گے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب علامات النبوة/حدیث: 14249]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب علامات النبوة/حدیث: 14249]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3295)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
Majma al-Zawa'id Hadith 14249 in Urdu