مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
74. بَابٌ .
بلا عنوان
حدیث نمبر: 14261
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: لَمَّا كَانَ قَبْلَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ إِكْرَامًا لَكَ، وَتَفْضِيلًا لَكَ، وَخَاصَّةً لَكَ، أَسْأَلُكَ عَمَّا هُوَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْكَ، يَقُولُ: كَيْفَ تَجِدُكَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَجِدُنِي يَا جِبْرِيلُ مَغْمُومًا، وَأَجِدُنِي يَا جِبْرِيلُ مَكْرُوبًا". فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّالِثُ هَبَطَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَهَبَطَ مَلَكُ الْمَوْتِ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَهَبَطَ مَعَهُمَا مَلَكٌ فِي الْهَوَاءِ يُقَالُ لَهُ: إِسْمَاعِيلُ، عَلَى سَبْعِينَ أَلْفِ مَلَكٍ لَيْسَ فِيهِمْ مَلَكٌ إِلَّا عَلَى سَبْعِينَ أَلْفِ مَلَكٍ، يُشَيِّعُهُمْ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ إِكْرَامًا لَكَ، وَتَفْضِيلًا لَكَ، وَخَاصَّةً لَكَ، أَسْأَلُكَ عَمَّا هُوَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْكَ، يَقُولُ: كَيْفَ تَجِدُكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -" أَجِدُنِي يَا جِبْرِيلُ مَغْمُومًا، وَأَجِدُنِي يَا جِبْرِيلُ مَكْرُوبًا". قَالَ: فَاسْتَأْذَنَ مَلَكُ الْمَوْتِ عَلَى الْبَابِ، فَقَالَ جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ، هَذَا مَلَكُ الْمَوْتِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْكَ، وَمَا اسْتَأْذَنَ عَلَى آدَمِيٍّ قَبِلَكَ، وَلَا يَسْتَأْذِنُ عَلَى آدَمِيٍّ بَعْدَكَ.
فَقَالَ:" ائْذَنْ لَهُ". فَأَذِنَ لَهُ جِبْرِيلُ، فَأَقْبَلَ حَتَّى وَقَفَ بَيْنَ يَدَيْهِ. فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ، وَأَمَرَنِي أَنْ أُطِيعَكَ فِيمَا أَمَرْتَنِي بِهِ، إِنْ تَأْمُرْنِي أَنْ أَقْبِضَ نَفْسَكَ قَبَضْتُهَا، وَإِنْ كَرِهْتَ تَرَكْتُهَا؟ قَالَ:" وَتَفْعَلُ يَا مَلَكَ الْمَوْتِ؟". قَالَ: نَعَمْ. وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ أَنْ أُطِيعَكَ فِيمَا أَمَرْتَنِي بِهِ. فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -: إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدِ اشْتَاقَ إِلَى لِقَائِكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" امْضِ لِمَا أُمِرْتَ بِهِ". فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ: هَذَا آخِرُ وَطْأَتِي فِي الْأَرْضِ، إِنَّمَا كُنْتَ حَاجَتِي فِي الدُّنْيَا.
فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَاءَتِ التَّعْزِيَةُ، جَاءَ آتٍ يَسْمَعُونَ حِسَّهُ وَلَا يَرَوْنَ شَخْصَهُ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ، إِنَّ فِي اللَّهِ عَزَاءً مِنْ كُلِّ مُصِيبَةٍ، وَخَلَفًا مِنْ كُلِّ هَالِكٍ، وَدَرْكًا مِنْ كُلِّ فَائِتٍ، فَبِاللَّهِ فَثِقُوا، وَإِيَّاهُ فَارْجُوا ; فَإِنَّ الْمُصَابَ مَنْ حُرِمَ الثَّوَابَ، وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ الْقَدَّاحُ، وَهُوَ ذَاهِبُ الْحَدِيثِ.
فَقَالَ:" ائْذَنْ لَهُ". فَأَذِنَ لَهُ جِبْرِيلُ، فَأَقْبَلَ حَتَّى وَقَفَ بَيْنَ يَدَيْهِ. فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ، وَأَمَرَنِي أَنْ أُطِيعَكَ فِيمَا أَمَرْتَنِي بِهِ، إِنْ تَأْمُرْنِي أَنْ أَقْبِضَ نَفْسَكَ قَبَضْتُهَا، وَإِنْ كَرِهْتَ تَرَكْتُهَا؟ قَالَ:" وَتَفْعَلُ يَا مَلَكَ الْمَوْتِ؟". قَالَ: نَعَمْ. وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ أَنْ أُطِيعَكَ فِيمَا أَمَرْتَنِي بِهِ. فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -: إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدِ اشْتَاقَ إِلَى لِقَائِكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" امْضِ لِمَا أُمِرْتَ بِهِ". فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ: هَذَا آخِرُ وَطْأَتِي فِي الْأَرْضِ، إِنَّمَا كُنْتَ حَاجَتِي فِي الدُّنْيَا.
فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَاءَتِ التَّعْزِيَةُ، جَاءَ آتٍ يَسْمَعُونَ حِسَّهُ وَلَا يَرَوْنَ شَخْصَهُ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ، إِنَّ فِي اللَّهِ عَزَاءً مِنْ كُلِّ مُصِيبَةٍ، وَخَلَفًا مِنْ كُلِّ هَالِكٍ، وَدَرْكًا مِنْ كُلِّ فَائِتٍ، فَبِاللَّهِ فَثِقُوا، وَإِيَّاهُ فَارْجُوا ; فَإِنَّ الْمُصَابَ مَنْ حُرِمَ الثَّوَابَ، وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ الْقَدَّاحُ، وَهُوَ ذَاهِبُ الْحَدِيثِ.
سیدنا علی بن حسین رضی اللہ عنہ (یعنی امام زین العابدین) بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور بولے: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کی عزت افزائی کے لئے اور آپ کی فضیلت کے اظہار کے لئے اور بطور خاص آپ کے لئے، آپ کے پاس بھیجا ہے، تاکہ میں آپ سے اس چیز کے بارے میں دریافت کروں، جس کے بارے میں پروردگار آپ سے بھی زیادہ بہتر جانتا ہے، اس نے یہ فرمایا ہے: آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جبرائیل! میں اپنے آپ کو پریشان محسوس کر رہا ہوں، اے جبرائیل! میں خود کو مشکل میں محسوس کر رہا ہوں، جب تیسرا دن آیا، تو سیدنا جبرائیل نازل ہوئے اور ان کے ساتھ ملک الموت نازل ہوئے، اور ان دونوں کے ساتھ ایک فرشتہ تھا، جو ہوا میں تھا، اس کا نام اسماعیل تھا، وہ ستر ہزار فرشتوں کے ساتھ تھا، اس میں سے ہر ایک فرشتے کے ساتھ مزید ستر ہزار فرشتے تھے، وہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ آئے تھے، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اللہ تعالیٰ نے آپ کی عزت افزائی کے لئے آپ کی فضیلت کے اظہار کے لئے بطور خاص آپ کی طرف مجھے بھیجا ہے، تاکہ میں آپ سے اس چیز کے بارے میں دریافت کروں، جس کے بارے میں پروردگار آپ سے بھی زیادہ بہتر جانتا ہے، وہ یہ فرما رہا ہے: آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جبرائیل! میں خود کو غمگین محسوس کر رہا ہوں، اے جبرائیل! میں خود کو پریشان محسوس کر رہا ہوں، راوی بیان کرتے ہیں: پھر ملک الموت نے دروازے پر اندر آنے کی اجازت مانگی، سیدنا جبرائیل نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) یہ ملک الموت ہے، یہ آپ سے اجازت مانگ رہا ہے، اس نے آپ سے پہلے کسی شخص سے اجازت نہیں مانگی، اور یہ آپ کے بعد بھی کبھی کسی سے اجازت نہیں مانگے گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اجازت دے دو! سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے اسے اجازت دی وہ آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کے ٹھہر گیا، اس نے عرض کی: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے، اس نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ آپ مجھے جو حکم دیں گے میں اس کے بارے میں آپ کی اطاعت کروں گا، اگر آپ مجھے یہ حکم دیتے ہیں کہ میں آپ کی جان قبض کر لوں، تو میں اسے قبض کر لوں گا، اور اگر آپ اسے ناپسند کرتے ہیں تو میں اسے چھوڑ دوں گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اے ملک الموت کیا تم ایسا ہی کرو گے؟ اس نے کہا: جی ہاں، مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے کہ آپ مجھے جو ہدایت کریں گے اس کے بارے میں، میں آپ کی اطاعت کروں گا، سیدنا جبرائیل نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ تعالیٰ آپ سے ملاقات کا مشتاق ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس چیز کو جاری کرو جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے، تو سیدنا جبرائیل نے ان سے کہا: یہ میرا زمین پر آخری مرتبہ آنا ہے، دنیا میں مجھے آپ سے ہی کام تھا۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا، تو ایک تعزیت کرنے والی کوئی چیز آئی تھی، اس کی آمد کا تو پتہ چلتا تھا، اس کی آہٹ کا احساس ہوتا تھا، لیکن اس کا وجود نظر نہیں آتا تھا، اس نے کہا: آپ پر سلام ہو، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں، ہر جان نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ہر مصیبت کا بدلہ ہو سکتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے، ہر ہلاک ہونے والے کا بدلہ مل سکتا ہے، اور ہر فوت ہونے والے کی جگہ بدل مل سکتا ہے، تو تم لوگ اللہ تعالیٰ پر یقین رکھو، اور اس سے ثواب کی امید رکھو، کیونکہ مصیبت زدہ وہ شخص ہوتا ہے، جو ثواب سے محروم رہے، تم پر سلام ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہوں۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن میمون قداح ہے، اور وہ ذاہب الحدیث ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب علامات النبوة/حدیث: 14261]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن میمون قداح ہے، اور وہ ذاہب الحدیث ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب علامات النبوة/حدیث: 14261]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2890)»
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
Majma al-Zawa'id Hadith 14261 in Urdu