مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
74. بَابٌ .
بلا عنوان
حدیث نمبر: 14279
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: رَأَيْتُ كَأَنَّ ثَلَاثَةَ أَقْمَارٍ سَقَطْنَ فِي حِجْرِي، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنْ صَدَقَتْ رُؤْيَاكِ دُفِنَ فِي بَيْتِكِ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ ثَلَاثَةٌ. فَلَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ: خَيْرُ أَقْمَارِكِ يَا عَائِشَةُ. وَدُفِنَ فِي بَيْتِهَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَاللَّفْظُ لَهُ، وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
وَقَدْ تَقَدَّمَ مَرْفُوعًا أَنَّهَا قَصَّتْهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَّهُ أَوَّلَهُ بِهَذَا فِي بَابِ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا، وَفِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَاللَّفْظُ لَهُ، وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
وَقَدْ تَقَدَّمَ مَرْفُوعًا أَنَّهَا قَصَّتْهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَّهُ أَوَّلَهُ بِهَذَا فِي بَابِ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا، وَفِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے خواب میں دیکھا کہ تین چاند اتر کر میری گود میں آ گئے ہیں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تمہارا خواب سچ ثابت ہوا، تو تمہارے گھر میں اہل زمین کے تین بہترین لوگ دفن ہوں گے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اے عائشہ! یہ تمہارے چاندوں میں سب سے بہتر ہیں، (راوی بیان کرتے ہیں:) پھر (بعد میں) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی ان کے گھر میں دفن کیا گیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں، یہ انہوں نے معجم اوسط میں بھی نقل کی ہے، معجم کبیر کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ اس سے پہلے یہ مرفوع حدیث گزر چکی ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ خواب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا تھا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعبیر بیان کی تھی، یہ خوابوں کی تعبیر سے متعلق باب میں گزری ہے، اور اس کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب علامات النبوة/حدیث: 14279]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں، یہ انہوں نے معجم اوسط میں بھی نقل کی ہے، معجم کبیر کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ اس سے پہلے یہ مرفوع حدیث گزر چکی ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ خواب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا تھا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعبیر بیان کی تھی، یہ خوابوں کی تعبیر سے متعلق باب میں گزری ہے، اور اس کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب علامات النبوة/حدیث: 14279]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
Majma al-Zawa'id Hadith 14279 in Urdu