مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ قُوَّتِهِ فِي وِلَايَتِهِ .
اپنی ولایت (یعنی ذمہ داریوں) میں ان کی قوت کا بیان
حدیث نمبر: 14448
وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ عُمَرَ قَطُّ إِلَّا وَبَيْنَ عَيْنَيْهِ مَلَكٌ يُسَدِّدُهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَيَأْتِي قَوْلُ ابْنِ مَسْعُودٍ كَذَلِكَ فِي وَفَاةِ عُمَرَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَيَأْتِي قَوْلُ ابْنِ مَسْعُودٍ كَذَلِكَ فِي وَفَاةِ عُمَرَ.
ابووائل کے حوالے سے یہ بات منقول ہے، وہ فرماتے ہیں: ”(شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:) میں نے جب بھی عمر کو دیکھا، تو اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک فرشتہ موجود تھا، جو اسے سیدھی راہ دکھا رہا تھا۔“
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے، ان اسانید میں سے ایک کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ آگے چل کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول آئے گا، جو اس کی مانند ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب المناقب/حدیث: 14448]
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے، ان اسانید میں سے ایک کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ آگے چل کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول آئے گا، جو اس کی مانند ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب المناقب/حدیث: 14448]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8832)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
Majma al-Zawa'id Hadith 14448 in Urdu