🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

23. بَابُ قُوَّتِهِ فِي وِلَايَتِهِ .
اپنی ولایت (یعنی ذمہ داریوں) میں ان کی قوت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14446
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" يَا أَبَا بَكْرٍ، إِنِّي رَأَيْتُنِي الْبَارِحَةَ عَلَى قَلِيبٍ أَنْزِعُ، فَجِئْتَ أَنْتَ فَنَزَعْتَ وَأَنْتَ ضَعِيفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا، وَضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابوبکر! گزشتہ رات میں نے (خواب میں) خود کو دیکھا کہ میں ایک کنویں کے پاس موجود ہوں اور پانی نکال رہا ہوں، پھر تم آئے اور تم نے پانی نکالنا شروع کیا، تمہارے اندر کمزوری تھی، اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے، پھر عمر آیا تو وہ (پانی کا ڈول) ایک بڑا ڈول بن گیا، اور اس نے لوگوں کو بھرپور طریقے سے سیراب کر دیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن جابر ہے، جسے ثقہ قرار دیا گیا ہے، لیکن ایک سے زیادہ افراد نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14446]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10243)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14447
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" بَيْنَا أَنَا أَنْزِعُ اللَّيْلَةَ إِذْ وَرَدَتْ عَلَيَّ غَنَمٌ سُودٌ وَعُفْرٌ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبِينَ وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، فَجَاءَ عُمَرُ فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا، فَمَلَأَ الْحِيَاضَ وَأَرْوَى الْوَارِدَةَ ; فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا أَحْسَنَ نَزْعًا مِنْ عُمَرَ، فَأَوَّلْتُ السُّودَ: الْعَرَبَ، وَالْعُفْرَ: الْعَجَمَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں گزشتہ رات (خواب میں) پانی نکال رہا تھا اسی دوران میرے پاس سیاہ رنگ کی اور خاکستری رنگ کی بکریاں آئیں، پھر ابوبکر آیا، اس نے ایک ڈول یا دو ڈول نکالے، اس کے نکالنے میں کمزوری تھی، اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کرے، پھر عمر آیا، تو وہ ایک بڑا ڈول بن گیا، اس نے حوضوں کو بھر دیا، اور آنے والوں کو سیراب کر دیا، میں نے پانی نکالنے کے کام میں عمر جیسا محنتی شخص نہیں دیکھا، تو میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ سیاہ بکریوں سے مراد عرب ہیں، اور خاکستری بکریوں سے مراد عجم ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14447]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14448
وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ عُمَرَ قَطُّ إِلَّا وَبَيْنَ عَيْنَيْهِ مَلَكٌ يُسَدِّدُهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَيَأْتِي قَوْلُ ابْنِ مَسْعُودٍ كَذَلِكَ فِي وَفَاةِ عُمَرَ.
ابووائل کے حوالے سے یہ بات منقول ہے، وہ فرماتے ہیں: (شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:) میں نے جب بھی عمر کو دیکھا، تو اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک فرشتہ موجود تھا، جو اسے سیدھی راہ دکھا رہا تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے، ان اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ آگے چل کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول آئے گا، جو اس کی مانند ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14448]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8832)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں