🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
100. بَابُ مَنَاقِبِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - .
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15119
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِنِسَائِهِ:" لَا تُبَكُّوا هَذَا الصَّبِيَّ". يَعْنِي حُسَيْنًا قَالَ: وَكَانَ يَوْمَ أُمِّ سَلَمَةَ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الدَّاخِلَ، وَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ:" لَا تَدَعِي أَحَدًا أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ". فَجَاءَ الْحُسَيْنُ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْبَيْتِ أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ، فَأَخَذَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ فَاحْتَضَنَتْهُ، وَجَعَلَتْ تُنَاغِيهِ وَتُسَكِّتُهُ، فَلَمَّا اشْتَدَّ فِي الْبُكَاءِ خَلَّتْ عَنْهُ، فَدَخَلَ حَتَّى جَلَسَ فِي حِجْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ جِبْرِيلُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنَّ أَمَّتَكَ سَتَقْتُلُ ابْنَكَ هَذَا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" يَقْتُلُونَهُ وَهُمْ مُؤْمِنُونَ بِي؟". قَالَ: نَعَمْ يَقْتُلُونَهُ، فَتَنَاوَلَ جِبْرِيلُ تُرْبَةً فَقَالَ: بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِ احْتَضَنَ حُسَيْنًا، كَاسِفَ الْبَالِ مَغْمُومًا، فَظَنَّتْ أُمُّ سَلَمَةَ أَنَّهُ غَضِبَ مِنْ دُخُولِ الصَّبِيِّ عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، جُعِلْتُ لَكَ الْفِدَاءَ، إِنَّكَ قُلْتَ لَنَا:" لَا تُبَكُّوا هَذَا الصَّبِيَّ". وَأَمَرْتَنِي أَنْ لَا أَدَعَ أَحَدًا يَدْخُلُ عَلَيْكَ، فَجَاءَ فَخَلَّيْتُ عَنْهُ. فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهَا، فَخَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ وَهُمْ جُلُوسٌ، فَقَالَ:" إِنَّ أُمَّتِي يَقْتُلُونَ هَذَا". وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ وَكَانَا أَجْرَأَ الْقَوْمِ عَلَيْهِ، فَقَالَا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَهُمْ مُؤْمِنُونَ؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَهَذِهِ تُرْبَتُهُ". وَأَرَاهُمْ إِيَّاهَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج سے فرمایا: اس بچے کو رونے نہ دینا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد سیدنا حسین رضی اللہ عنہ تھے۔ راوی کہتے ہیں: یہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی مخصوص باری کا وقت تھا۔ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل ہوئے اور آپ نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: تم کسی کو میرے پاس اندر نہ آنے دینا، اسی دوران حسین رضی اللہ عنہ آ گئے، جب انہوں نے گھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، تو اندر داخل ہونے کا ارادہ کیا۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں پکڑ لیا اور گود میں اٹھا لیا وہ انہیں چپ کروانے لگیں، لیکن جب ان کا رونا زیادہ ہو گیا تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں چھوڑ دیا، وہ اندر داخل ہوئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں جا کے بیٹھ گئے، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ کی امت آپ کے اس بیٹے کو قتل کر دے گی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا وہ لوگ مجھ پر ایمان رکھنے کے باوجود اسے قتل کر دیں گے؟ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا: جی ہاں وہ لوگ اسے قتل کر دیں گے، پھر سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے مٹی لی اور بتایا: فلاں فلاں جگہ پر ایسا ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو آپ نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو گود میں اٹھایا ہوا تھا اور آپ پریشان تھے، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سمجھیں کہ شاید وہ بچے کے اپنے پاس آنے کی وجہ سے غصے میں ہیں، تو انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں آپ پر فدا ہو جاؤں، آپ نے ہم سے یہ کہا: تھا کہ تم اس بچے کو رونے نہ دینا، اور پھر آپ نے مجھے یہ بھی حکم دیا تھا کہ میں کسی کو آپ کے پاس نہ آنے دوں، یہ آیا تو میں نے اسے چھوڑ دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو کوئی جواب نہیں دیا، آپ اپنے اصحاب کے پاس تشریف لے گئے، وہ لوگ بیٹھے ہوئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت اس کو قتل کر دے گی، حاضرین میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سب لوگوں کی بہ نسبت زیادہ بے تکلف تھے۔ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! کیا وہ مومن ہوں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! اور یہ اس کی تربت ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو وہ مٹی دکھائی۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے، اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب المناقب/حدیث: 15119]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8096)»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن

Majma al-Zawa'id Hadith 15119 in Urdu