مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
100. بَابُ مَنَاقِبِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - .
حدیث نمبر: 15102
عَنْ بِشْرِ بْنِ غَالِبٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَرَأَى الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ وَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدَ اللَّهِ، لَقَدْ رَأَيْتُكَ عَلَى يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ خَضَّبْتَهُمَا دَمًا حِينَ أَتَى بِكَ حِينَ وُلِدْتَ فَسُرِرْتُ، فَلَفَّكَ فِي خِرْقَةٍ، وَلَقَدْ تَفَلَ فِي فِيكَ، وَلَقَدْ تَكَلَّمَ بِكَلَامٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ، وَلَقَدْ كَانَتْ فَاطِمَةُ سَبَقَتْهُ بِسُرَّةِ الْحَسَنِ، فَقَالَ:" لَا تَسْبِقِينِي بِهَذَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
#N/A [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15102]
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 15103
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ الْحِزَامِيِّ قَالَ: كَانَ جَسَدُ الْحُسَيْنِ شِبْهَ جَسَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ نَحْوَ هَذَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ نَحْوَ هَذَا.
محمد بن ضحاک بن عثمان حزامی بیان کرتے ہیں: سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا جسم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم سے مشابہت رکھتا تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ اس سے پہلے اس نوعیت کی احادیث گزر چکی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15103]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ اس سے پہلے اس نوعیت کی احادیث گزر چکی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15103]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2845)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15104
وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمْ يَكُنْ بَيْنَ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ إِلَّا طُهْرًا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ لَمْ يُدْرِكْ ذَلِكَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ لَمْ يُدْرِكْ ذَلِكَ.
امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ”سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے درمیان صرف ایک طہر کا فرق ہے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں، البتہ امام باقر رحمہ اللہ نے اس واقعہ کا زمانہ نہیں پایا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15104]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں، البتہ امام باقر رحمہ اللہ نے اس واقعہ کا زمانہ نہیں پایا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15104]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2766)»
الحكم على الحديث: إسنادہ منقطع
حدیث نمبر: 15105
وَعَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ:" مَنْ أَحَبَّ هَذَا فَقَدَ أَحَبَّنِي".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے بارے میں فرمایا: ”جو شخص اس سے محبت رکھے گا، وہ مجھ سے محبت رکھے گا۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث اعور ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15105]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث اعور ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15105]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2643)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15106
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ يُحِبُّهُ حُبًّا شَدِيدًا، فَقَالَ: أَذْهَبُ إِلَى أُمِّي، فَقُلْتُ: أَذْهَبُ مَعَهُ؟ فَجَاءَتْ بَرْقَةٌ مِنَ السَّمَاءِ، فَمَشَى فِي ضَوْئِهَا حَتَّى بَلَغَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُثْمَانَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُثْمَانَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شدید محبت کرتے تھے، انہوں نے دریافت کیا: کیا میں اپنی والدہ کے پاس چلا جاؤں؟ (راوی کہتے ہیں:) میں نے عرض کی: میں ان کے ساتھ چلا جاتا ہوں، راوی کہتے ہیں: تو اسی دوران آسمان سے ایک روشنی آئی اور وہ اس کی روشنی میں چلتے ہوئے اپنی منزل تک پہنچ گئے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عثمان ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15106]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عثمان ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15106]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2660)»
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 15107
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: جَاءَ الْحُسَيْنُ يَشْتَدُّ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي، فَالْتَزَمَ عُنُقَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامَ بِهِ وَأَخَذَ بِيَدِهِ، فَلَمْ يَزَلْ مُمْسِكَهَا حَتَّى رَكَعَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِمْ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِمْ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز ادا کر رہے تھے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن پکڑ لی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور آپ نے مسلسل انہیں پکڑے رکھا، یہاں تک کہ آپ رکوع میں چلے گئے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15107]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15107]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2657)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15108
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَّجَ مَا بَيْنَ فَخِذَيِ الْحُسَيْنِ، وَقَبَّلَ زَبِيبَتَهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے دونوں زانوں کو کھولا اور ان کے زبیبہ کو بوسہ دیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15108]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15108]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2658)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 15109
وَعَنْ رَجَاءِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: كُنْتُ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ مَرَّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ فَسَلَّمَ، فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَوْمُ السَّلَامَ، وَسَكَتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ثُمَّ رَفَعَ ابْنُ عَمْرٍو صَوْتَهُ بَعْدَمَا سَكَتَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَحَبِّ أَهْلِ الْأَرْضِ إِلَى أَهْلِ السَّمَاءِ؟ قَالُوا: بَلَى. قَالَ: هُوَ هَذَا الْمُقَفِّي، وَاللَّهِ مَا كَلَّمْتُهُ كَلِمَةً وَلَا كَلَّمَنِي كَلِمَةً مُنْذُ لَيَالِي صِفِّينَ، وَوَاللَّهِ لَأَنْ يَرْضَى عَنِّي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي مِثْلُ أَحَدٍ. فَقَالَ لَهُ أَبُو سَعِيدٍ: أَلَا تَغْدُو إِلَيْهِ؟ قَالَ: بَلَى، فَتَوَاعَدُوا أَنْ يَغْدُوَا إِلَيْهِ، وَغَدَوْتُ مَعَهُمَا، فَاسْتَأْذَنَ أَبُو سَعِيدٍ فَأَذِنَ فَدَخَلْنَا إِلَّا ابْنَ عَمْرٍو، فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى أَذِنَ لَهُ الْحُسَيْنُ، فَدَخَلَ، فَلَمَّا رَآهُ زَحَلَ لَهُ، وَهُوَ جَالِسٌ إِلَى جَنْبِ الْحُسَيْنِ فَمَدَّهُ الْحُسَيْنُ إِلَيْهِ، فَقَامَ ابْنُ عَمْرٍو فَلَمْ يَجْلِسْ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ خَلَا عَنْ أَبِي سَعِيدٍ فَأَزْحَلَ لَهُ، فَجَلَسَ بَيْنَهُمَا، فَقَصَّ أَبُو سَعِيدٍ الْقِصَّةَ، فَقَالَ: أَكَذَاكَ يَا ابْنَ عَمْرٍو؟ أَتَعْلَمُ أَنِّي أَحَبُّ أَهْلِ الْأَرْضِ إِلَى أَهْلِ السَّمَاءِ؟ قَالَ: إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، إِنَّكَ لَأَحَبُّ أَهْلِ الْأَرْضِ إِلَى أَهْلِ السَّمَاءِ. قَالَ: فَمَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ قَاتَلَتَنِي وَأَبِي يَوْمَ صِفِّينَ؟ وَاللَّهِ لَأَبِي خَيْرٌ مِنِّي. قَالَ: أَجَلْ، وَلَكِنَّ عَمْرًا شَكَانِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنْ عَبْدَ اللَّهِ يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" صَلِّ وَنَمْ، وَصُمْ وَأَفْطِرْ، وَأَطِعْ عَمْرًا". فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ صِفِّينَ، أَقْسَمَ عَلَيَّ، وَاللَّهِ مَا كَثَّرْتُ لَهُمْ سَوَادًا، وَلَا اخْتَرَطْتُ لَهُمْ سَيْفًا، وَلَا طَعَنْتُ بِرُمْحٍ، وَلَا رَمَيْتُ بِسَهْمٍ. فَقَالَ الْحَسَنُ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ؟ قَالَ: بَلَى. قَالَ: كَأَنَّهُ قَبِلَ مِنْهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ، وَفِيهِ لِينٌ، وَهُوَ حَافِظٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
وَقَدْ تَقَدَّمَ مِنَ الْبَزَّارِ فِي تَرْجَمَةِ الْحَسَنِ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ، وَفِيهِ لِينٌ، وَهُوَ حَافِظٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
وَقَدْ تَقَدَّمَ مِنَ الْبَزَّارِ فِي تَرْجَمَةِ الْحَسَنِ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
رجاء بن ربیعہ بیان کرتے ہیں: میں مسجد نبوی میں موجود تھا، اسی دوران سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما وہاں سے گزرے، انہوں نے سلام کیا، حاضرین نے انہیں سلام کا جواب دیا، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ خاموش رہے، پھر سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے خاموش ہونے کے بعد آواز بلند کی اور بولے: آپ پر بھی سلام ہو، اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں، پھر وہ حاضرین کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے: کیا میں تمہیں یہ بات نہ بتاؤں کہ اہل آسمان کے نزدیک اہل زمین میں سے سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو انہوں نے فرمایا: یہ والے صاحب جو ابھی چلے گئے ہیں، اللہ کی قسم! جنگ صفین کے بعد سے لے کر ابھی تک میں نے ان کے ساتھ کوئی بات نہیں کی اور انہوں نے میرے ساتھ کوئی بات نہیں کی اور اللہ کی قسم! اگر یہ مجھ سے راضی ہو جائیں تو یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو گا کہ مجھے احد پہاڑ جتنی دولت مل جائے، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ ان کی طرف چلیں گے، انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، پھر انہوں نے یہ طے کیا کہ اگلے دن وہ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے پاس جائیں گے، راوی کہتے ہیں: ان دونوں صاحبان کے ساتھ میں بھی گیا، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دے دی، ہم لوگ اندر داخل ہوئے، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اندر داخل نہیں ہوئے وہ باہر ہی رہے، یہاں تک کہ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے انہیں بھی اجازت دی تو وہ اندر آئے، جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا تو ان کے لئے جگہ کی اور وہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے پہلو میں آ کے بیٹھ گئے، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف نگاہ کی، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تھے وہ بیٹھے نہیں تھے، جب انہوں نے دیکھا تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے ہٹ کے ان کے لئے جگہ بنائی اور وہ ان دونوں کے درمیان بیٹھ گئے۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے پورا واقعہ بیان کیا، تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: اے ابن عمرو! کیا اسی طرح ہے؟ کیا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ میں اہل آسمان کے نزدیک اہل زمین میں سب سے زیادہ محبوب ہوں؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں! رب کعبہ کی قسم! آپ اہل آسمان کے نزدیک اہل زمین میں سے سب سے زیادہ محبوب ہیں، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: پھر آپ نے جنگ صفین کے موقع پر میرے والد کے ساتھ جنگ کیوں کی تھی، اللہ کی قسم! میرے والد مجھ سے بہتر ہیں؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں لیکن سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ میری شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی اور یہ کہا: عبداللہ دن کے وقت روزہ رکھ لیتا ہے اور رات کو نفل پڑھتا رہتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم رات کے وقت نفل پڑھ بھی لیا کرو اور سو بھی جایا کرو، نفلی روزہ رکھا بھی کرو اور چھوڑ بھی دیا کرو، اور عمرو کی بات ماننا۔ جب جنگ صفین کا موقع آیا تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے مجھے قسم دی اللہ کی قسم! میں نے ان لوگوں کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا اور نہ ہی میں نے ان لوگوں کے لئے تلوار کو سونتا، نہ ہی ان کی خاطر نیزے کے ذریعے حملہ کیا، نہ ان کی خاطر کوئی تیر پھینکا، تو سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ یہ بات نہیں جانتے کہ خالق کی معصیت میں مخلوق کی اطاعت نہیں کی جاتی، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں! راوی کہتے ہیں: گویا انہوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی اس بات کو قبول کیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن سعید بن بشیر ہے اور اس میں کمزوری پائی جاتی ہے اور وہ حافظ ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ اس سے پہلے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے حالات میں امام بزار کی نقل کردہ روایت گزر چکی ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15109]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن سعید بن بشیر ہے اور اس میں کمزوری پائی جاتی ہے اور وہ حافظ ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ اس سے پہلے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے حالات میں امام بزار کی نقل کردہ روایت گزر چکی ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15109]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15110
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ:" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ".
فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُهُ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الرَّبِيعِ بْنِ سَعْدٍ، وَقِيلَ: ابْنُ سَعِيدٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.
فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُهُ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الرَّبِيعِ بْنِ سَعْدٍ، وَقِيلَ: ابْنُ سَعِيدٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ اہل جنت سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کو دیکھے تو وہ سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو دیکھ لے۔“ (سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے۔ اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں صرف ربیع بن سعد کا معاملہ مختلف ہے اور ایک قول کے مطابق یہ ربیع بن سعید ہے اور وہ ثقہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15110]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے۔ اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں صرف ربیع بن سعد کا معاملہ مختلف ہے اور ایک قول کے مطابق یہ ربیع بن سعید ہے اور وہ ثقہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15110]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (1874)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15111
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ مَلَكَ الْقَطْرِ اسْتَأْذَنَ [ رَبَّهُ ] أَنْ يَأْتِيَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَذِنَ لَهُ، فَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ:" امْلُكِي عَلَيْنَا الْبَابَ لَا يَدْخُلْ عَلَيْنَا أَحَدٌ". قَالَ: وَجَاءَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ لِيَدْخُلَ فَمَنَعَتْهُ، فَوَثَبَ فَدَخَلَ، فَجَعَلَ يَقْعُدُ عَلَى ظَهْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَى مِنْكَبِهِ، وَعَلَى عَاتِقِهِ، قَالَ: فَقَالَ الْمَلَكُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَتُحِبُّهُ؟ قَالَ:" نَعَمْ". قَالَ: [ أَمَا ] إِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ، وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ الْمَكَانَ الَّذِي يُقْتَلُ بِهِ. فَضَرَبَ بِيَدِهِ، فَجَاءَ بِطِينَةٍ حَمْرَاءَ، فَأَخَذَتْهَا أُمُّ سَلَمَةَ فَصَرَّتْهَا فِي خِمَارِهَا. قَالَ ثَابِتٌ: بَلَغَنَا أَنَّهَا كَرْبَلَاءُ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَفِيهَا عِمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَفِيهَا عِمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بارش کے فرشتے نے اپنے پروردگار سے یہ اجازت مانگی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے، تو پروردگار نے اسے اجازت دے دی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: تم دروازے کا دھیان رکھنا، کوئی ہمارے پاس نہ آئے، راوی کہتے ہیں: اسی دوران سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما آئے انہوں نے اندر آنے کی کوشش کی، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں روکا، لیکن وہ اچھل کر اندر آ گئے اور آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت اور کندھوں اور گردن پر بیٹھنے لگے، راوی کہتے ہیں: اس فرشتے نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: آپ اس سے محبت رکھتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: جی ہاں! اس فرشتے نے کہا: لیکن آپ کی امت اسے شہید کر دے گی، اگر آپ چاہیں، تو میں آپ کو وہ جگہ دکھا دیتا ہوں جہاں اسے شہید کیا جائے گا، پھر اس فرشتے نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور سرخ رنگ کی مٹی لے آیا (راوی کہتے ہیں:) سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے وہ مٹی لے لی تھی اور اسے اپنی تھیلی میں باندھ لیا تھا۔ ثابت نامی راوی کہتے ہیں: ہم تک
یہ روایت پہنچی ہے کہ وہ مٹی کربلا کی تھی۔
یہ روایت امام أحمد، امام ابویعلیٰ امام بزار اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عمارہ بن زاذان ہے، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے، ابویعلیٰ کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15111]
یہ روایت پہنچی ہے کہ وہ مٹی کربلا کی تھی۔
یہ روایت امام أحمد، امام ابویعلیٰ امام بزار اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عمارہ بن زاذان ہے، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے، ابویعلیٰ کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15111]
تخریج الحدیث: «اخرجه أبو يعلى فى المسند (3402) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2813) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير 242/3»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن