مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
100. بَابُ مَنَاقِبِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - .
حدیث نمبر: 15121
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: اسْتَأْذَنَ مَلَكُ الْقَطْرِ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَ:" لَا يَدْخُلْ عَلَيْنَا أَحَدٌ". فَجَاءَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فَدَخَلَ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: هُوَ الْحُسَيْنُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" دَعِيهِ". فَجَعَلَ يَعْلُو رَقَبَةَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَعْبَثُ بِهِ، وَالْمَلَكُ يَنْظُرُ، فَقَالَ الْمَلَكُ: أَتُحِبُّهُ يَا مُحَمَّدُ؟ قَالَ:" إِي وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّهُ". قَالَ: أَمَا إِنَّ أَمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ، وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ الْمَكَانَ. فَقَالَ بِيَدِهِ فَتَنَاوَلَ كَفًّا مِنْ تُرَابٍ، فَأَخَذَتْ أُمُّ سَلَمَةَ التُّرَابَ فَصَرَّتْهُ فِي خِمَارِهَا، فَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ ذَلِكَ التُّرَابَ مِنْ كَرْبَلَاءَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بارش کے فرشتے نے یہ اجازت مانگی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرے، اس نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے) فرمایا: تم کسی کو ہمارے پاس نہ آنے دینا، اسی دوران سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آ گئے اور اندر داخل ہو گئے، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یہ حسین ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے رہنے دو! وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن پر چڑھ گئے اور آپ کے ساتھ کھیلنے لگے، فرشتہ یہ چیز دیکھ رہا تھا، فرشتے نے دریافت کیا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! کیا آپ اس سے محبت رکھتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اللہ کی قسم! میں اس سے محبت رکھتا ہوں، فرشتے نے کہا: لیکن آپ کی امت اسے عنقریب قتل کر دے گی، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس کی جگہ دکھا دیتا ہوں، پھر اس نے ہاتھ بڑھایا اور مٹھی میں کچھ مٹی لی، وہ مٹی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے لے لی تھی اور اسے اپنی چادر میں باندھ لیا تھا، لوگ یہ سمجھتے تھے وہ مٹی کربلا کی تھی۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب المناقب/حدیث: 15121]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب المناقب/حدیث: 15121]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2807)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
Majma al-Zawa'id Hadith 15121 in Urdu