مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
121. بَابُ مَنَاقِبِ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَضِيَ عَنْهَا
نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 15372
عَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْبَرَ وَصَفِيَّةُ عَرُوسٌ فِي مَجَاسِدِهَا، فَرَأَتْ فِي الْمَنَامِ أَنَّ الشَّمْسَ وَقَعَتْ عَلَى صَدْرِهَا، فَقَصَّتْهَا عَلَى زَوْجِهَا، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا تَمَنَّيْنَ إِلَّا هَذَا الْمَلِكَ الَّذِي نَزَلَ بِنَا. فَافْتَتَحَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَضَرَبَ عُنُقَ زَوْجِهَا صَبْرًا، وَتَعَرَّضَ لَهَا مَنْ هُنَالِكَ مِنْ فِتْيَانِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَلْقَى لَهُمْ تَمْرًا عَلَى سَفِيفٍ، وَقَالَ:" كُلُوا وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى صَفِيَّةَ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ مُجْمَعٌ عَلَيْهِ.
سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر میں پڑاؤ کیا تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی نئی نئی شادی ہوئی تھی، انہوں نے خواب میں دیکھا کہ سورج ان کے سینے پر آ گیا ہے، انہوں نے یہ خواب اپنے شوہر کو سنایا تو ان کے شوہر نے کہا: اللہ کی قسم تم اس بادشاہ کے ساتھ شادی کرنے کی آرزو مند ہو جو ہمارے علاقے میں آیا ہوا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کیا، تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے شوہر کو باندھ کر اس کی گردن کو اڑا دیا گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہسواروں نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو گرفتار کر لیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کے ساتھ شادی کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ولیمے میں کھجوریں دسترخوان پر رکھوائیں اور فرمایا: اللہ کے رسول کی صفیہ کے ساتھ شادی کا ولیمہ کھاؤ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی نہاس بن قہم ہے اور وہ ضعیف ہے، جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب المناقب/حدیث: 15372]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی نہاس بن قہم ہے اور وہ ضعیف ہے، جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب المناقب/حدیث: 15372]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (67/24)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
Majma al-Zawa'id Hadith 15372 in Urdu