مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
183. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی فضٰلت کے بارے میں، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 15702
وَعَنْ أَنَسٍ: أَنْ أُكَيْدِرَ الدَّوْمَةِ بَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جُبَّةَ سُنْدُسٍ، فَلَبِسَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَعَجَّبَ النَّاسُ مِنْهَا، فَقَالَ:" أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذِهِ! فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْهَا". ثُمَّ أَهْدَاهَا إِلَى عُمَرَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَكْرَهُهَا وَأَلْبَسُهَا! قَالَ:" يَا عُمَرُ، إِنَّمَا أَرْسَلْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَبْعَثَهَا وَجْهًا فَتُصِيبَ بِهَا مَالًا". وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ. قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ بَعَثَهَا إِلَى عُمَرَ إِلَى آخِرِهِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”دومہ“ کے (حکمران) ”اکیدر“ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سندس سے بنا ہوا جبہ بھیجا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہن لیا، لوگ اس پر حیران ہوئے (یعنی انہیں وہ بہت زیادہ پسند آیا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس پر حیران ہو رہے ہو؟ اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے زیادہ بہتر ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیا، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے اسے ناپسند کیا ہے، تو کیا میں اس کو پہن لوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عمر! یہ میں نے تمہاری طرف اس لئے بھجوایا ہے تاکہ تم یہ کسی کو دے کر اس کے عوض میں مال حاصل کر لو۔ راوی کہتے ہیں: یہ ریشم کی ممانعت سے پہلے کی بات ہے۔
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: یہ روایت صحیح میں اختصار کے ساتھ مذکور ہے، جس میں صرف یہ ذکر ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیا تھا، اس کے بعد سے لے کر آخر تک کا حصہ مذکور ہے،
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب المناقب/حدیث: 15702]
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: یہ روایت صحیح میں اختصار کے ساتھ مذکور ہے، جس میں صرف یہ ذکر ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیا تھا، اس کے بعد سے لے کر آخر تک کا حصہ مذکور ہے،
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب المناقب/حدیث: 15702]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2702)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
Majma al-Zawa'id Hadith 15702 in Urdu