مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
183. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی فضٰلت کے بارے میں، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 15687
قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ الْأَنْصَارِيُّ، ثُمَّ الْأَشْهَلِيُّ، بَدْرِيٌّ أُحَدِيٌّ، يُكْنَى أَبَا عَمْرٍو، اسْتُشْهِدَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ.
وَقَدْ تَقَدَّمَ بِأَسَانِيدِهِ فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ.
وَقَدْ تَقَدَّمَ بِأَسَانِيدِهِ فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ.
امام طبرانی بیان کرتے ہیں: سیدنا سعد بن معاذ انصاری، اشہلی، انہیں غزوہ بدر اور غزوہ احد میں شرکت کا شرف حاصل ہے اُن کی کنیت ابوعمر تھی، وہ غزوہ خندق میں شہید ہوئے تھے۔ یہ بات اس سے پہلے اسانید کے ساتھ غزوہ بدر سے متعلق باب میں گزر چکی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15687]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5/6)»
حدیث نمبر: 15688
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" هَذَا سَيِّدُكُمْ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّمِينُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، اسی دوران سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ تشریف لائے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ تم لوگوں کا سردار معاذ ہے۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ سمین ہے اور وہ ضعیف ہے، ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15688]
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ سمین ہے اور وہ ضعیف ہے، ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15688]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2696)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15689
وَعَنِ الْمَاجِشُونِ قَالَ: قَالَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ: ثَلَاثٌ أَنَا عَمَّا سِوَاهُنَّ ضَعِيفٌ: مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا إِلَّا عَلِمْتُ أَنَّهُ حَقٌّ، وَلَا صَلَّيْتُ صَلَاةً فَحَدَّثْتُ نَفْسِي بِغَيْرِهَا حَتَّى أَنْفَتِلَ عَنْهَا، وَلَا تَبِعْتُ جِنَازَةً،فَحَدَّثْتُ نَفْسِي بِغَيْرِ مَا إِيَّاهُ قَائِلُهُ وَيُقَالُ لَهَا.
ماجشون بیان کرتے ہیں: سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے یہ بات کہی: تین چیزیں ایسی ہیں کہ میں ان کے علاوہ چیزوں میں کمزور ہوں (یعنی ان تین چیزوں میں کمزور نہیں ہوں) جب بھی میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات سنی، تو میں اس بات کا علم رکھتا تھا کہ یہ بات حق ہے، اور جب بھی میں نے نماز ادا کی، تو نماز ختم کرنے تک میں نے اپنا خیال کسی اور طرف متوجہ نہیں ہونے دیا، اور جب بھی میں کسی جنازے میں شریک ہوا، تو میری تمام تر توجہ کا مرکز، اُس کی مرنے کے بعد کی صورتحال رہی۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15689]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5321)»
الحكم على الحديث: إسنادہ منقطع
حدیث نمبر: 15690
وَفِي رِوَايَةٍ: وَلَا حَضَرْتُ مَيِّتًا إِلَّا حَدَّثْتُ نَفْسِي بِمَا يَقُولُ وَيُقَالُ لَهُ..
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ: أَحَدُهُمَا عَنْ أَبِي سَلَمَةَ مُرْسَلًا، وَالْآخَرُ عَنِ الْمَاجِشُونِ مُنْقَطِعًا، وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ: أَحَدُهُمَا عَنْ أَبِي سَلَمَةَ مُرْسَلًا، وَالْآخَرُ عَنِ الْمَاجِشُونِ مُنْقَطِعًا، وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”میں، جب بھی کسی جنازے میں شریک ہوا، تو میں یہی سوچتا رہا کہ یہ کہا: کہے گا؟ اور اس سے کیا کہا: جائے گا؟“۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے، ان دونوں میں سے ایک روایت ابوسلمہ کے حوالے سے ”مرسل“ روایت کے طور پر منقول ہے اور دوسری روایت ماجشون کے حوالے سے ”منقطع“ روایت کے طور پر منقول ہے، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے، جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15690]
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے، ان دونوں میں سے ایک روایت ابوسلمہ کے حوالے سے ”مرسل“ روایت کے طور پر منقول ہے اور دوسری روایت ماجشون کے حوالے سے ”منقطع“ روایت کے طور پر منقول ہے، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے، جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15690]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5322)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15691
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَقَدْ نَزَلَ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ مَا وَطِئُوا الْأَرْضَ قَبْلَهَا".
وَقَالَ حِينَ دُفِنَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ! لَوِ انْفَلَتَ أَحَدٌ مِنْ ضَغْطَةِ الْقَبْرِ لَانْفَلَتَ مِنْهَا سَعَدٌ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.
وَقَالَ حِينَ دُفِنَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ! لَوِ انْفَلَتَ أَحَدٌ مِنْ ضَغْطَةِ الْقَبْرِ لَانْفَلَتَ مِنْهَا سَعَدٌ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سعد بن معاذ کے انتقال پر ستر ہزار ایسے فرشتے نازل ہوئے ہیں، جنہوں نے اس سے پہلے زمین پر قدم نہیں رکھا۔“ (سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:) جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو دفن کیا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے، اگر کسی شخص کو قبر کے دبوچنے سے نجات ملنا ہوتی، تو سعد کو اُس سے نجات مل جاتی۔“
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے، ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15691]
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے، ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15691]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2699 و 2698)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15692
وَعَنْ أبي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اهْتَزَّ الْعَرْشُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے مرنے پر عرش ہل گیا۔“
یہ روایت امام أحمد، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15692]
یہ روایت امام أحمد، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15692]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2701) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (53324) اخرجه أحمد فى المسند (23/3)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15693
وَعَنْ رُمَيْثَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَوْ أَشَاءُ أَنْ أُقَبِّلَ الْخَاتَمَ الَّذِي بَيْنَ كَتِفَيْهِ مِنْ قُرْبِي مِنْهُ لَقَبَّلْتُ - وَهُوَ يَقُولُ لِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ يَوْمَ مَاتَ:" اهْتَزَّ لَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ بِنَحْوِهِ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِهِ، وَهُوَ ثِقَةٌ.
سیدنا رمیثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، اُس وقت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنا قریب تھا کہ اگر میں چاہتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں کندھوں کے درمیان موجود ”مہر نبوت“ کا بوسہ لے سکتا تھا، جس دن سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے رحمن کا عرش ہلا ہے۔“
یہ روایت امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے، امام طبرانی نے بھی اسے نقل کیا ہے، معجم کبیر اور معجم اوسط میں، روایت کے یہ الفاظ ان کی نقل کردہ ہیں، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں، صرف ان کے استاد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15693]
یہ روایت امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے، امام طبرانی نے بھی اسے نقل کیا ہے، معجم کبیر اور معجم اوسط میں، روایت کے یہ الفاظ ان کی نقل کردہ ہیں، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں، صرف ان کے استاد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15693]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (329/6)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15694
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَدِمْنَا مِنْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، فَتُلُقِّينَا بِذِي الْحُلَيْفَةِ وَكَانَ غِلْمَانٌ مِنَ الْأَنْصَارِ تَلَقَّوْا أَهْلِيهِمْ، فَلَقُوا أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ فَنَعَوْا لَهُ امْرَأَتَهُ فَتَقَنَّعَ وَجَعَلَ يَبْكِي، فَقُلْتُ لَهُ: غَفَرَ اللَّهُ لَكَ، أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَكَ مِنَ السَّابِقَةِ وَالْقِدَمِ مَا لَكَ، تَبْكِي عَلَى امْرَأَةٍ؟ فَكَشَفَ عَنْ رَأْسِهِ وَقَالَ: صَدَقْتِ لَعَمْرِي حَقِّي: أَنْ لَا أَبْكِي عَلَى أَحَدٍ بَعْدَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، وَقَدْ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا قَالَ. قَالَتْ: قُلْتُ لَهُ: مَا قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ:" لَقَدِ اهْتَزَّ الْعَرْشُ لِوَفَاةِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ". قَالَتْ: وَهُوَ يَسِيرُ بَيْنِي وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.
هَكَذَا رَوَاهُ أَحْمَدُ.
هَكَذَا رَوَاهُ أَحْمَدُ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم لوگ حج (راوی کو شک ہے، یا شاید یہ الفاظ ہیں:) عمرہ سے آئے، جب ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو وہاں انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ نوجوان موجود تھے، جو اپنے عزیزوں سے ملے، ان لوگوں کی ملاقات سیدنا أسيد بن حضیر رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو انہوں نے سیدنا اُسید رضی اللہ عنہ کو ان کی اہلیہ کے انتقال کے بارے میں بتایا، سیدنا اُسید نے سر جھکا لیا اور رونے لگے، میں نے ان سے کہا: کہ اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت کرے، آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، آپ کو سبقت اور قدیم ہونے کا شرف حاصل ہے، کیا وجہ ہے کہ آپ ایک عورت پر رو رہے ہیں؟ تو انہوں نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور بولے: آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں، مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے! میرا حق بنتا ہے کہ میں سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے بعد کسی پر نہ روؤں، جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں ایک بات ارشاد فرمائی ہوئی ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: میں نے ان سے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا ہے؟ تو انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”سعد بن معاذ کی وفات پر عرش ہل گیا ہے۔“ ”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں: اُس وقت سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ میرے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان چل رہے تھے۔ امام أحمد نے اسے اسی طرح نقل کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15694]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (352/4)»
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 15695
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ نَزَلَ ذَا الْحُلَيْفَةِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمُ الصِّبْيَانُ فَيُخْبِرُونَهُمْ عَنْ أَهْلِيهِمْ، فَأُخْبِرَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ بِمَوْتِ امْرَأَتِهِ فَبَكَى، فَقِيلَ لَهُ: أَتَبْكِي؟ فَقَالَ: وَمَا لِي لَا أَبْكِي وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" إِنَّ الْعَرْشَ اهْتَزَّتْ أَعْوَادُهُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ". وَأَسَانِيدُهَا كُلُّهَا حَسَنَةٌ.
یہ روایت امام طبرانی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نقل کی ہے، وہ بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپس تشریف لاتے تھے، تو آپ ذوالحلیفہ میں پڑاؤ کرتے تھے، بچے نکل کر ان لوگوں کے پاس آتے تھے اور ان کے گھر بار کے بارے میں انہیں بتاتے تھے، سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کو ان کی اہلیہ کے انتقال کے بارے میں بتایا گیا، تو وہ رونے لگے، ان سے کہا: گیا: آپ رو رہے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: میں کیوں نہ روؤں، جبکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”عرش کے پائے، سعد بن معاذ کے انتقال کی وجہ سے ہل گئے۔“ اس روایت کی تمام اسانید حسن ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15695]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (553)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 15696
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ قَالَتْ: لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ صَاحَتْ أُمُّهُ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لِيَرْقَأْ دَمْعُكِ، وَيَذْهَبْ حُزْنُكِ ; فَإِنَّ ابْنَكِ أَوَّلُ مَنْ ضَحِكَ اللَّهُ لَهُ، وَاهْتَزَّ لَهُ الْعَرْشُ". رَوَاهُ [ أَحْمَدُ ] الطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ قَالَتْ: لَمَّا أُخْرِجَ بِجِنَازَةِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ صَاحَتْ أُمُّهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لِيَرْقَأْ دَمْعُكِ، وَيَذْهَبْ حُزْنُكِ". وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیده اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں: ”جب سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہما کا انتقال ہوا، تو ان کی والدہ چیخ کر رونے لگیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: تمہارے آنسو ختم ہو جانے چاہییں، اور تمہارا غم رخصت ہو جانا چاہیئے، کیونکہ تمہارا بیٹا اور پہلا فرد ہے، جس سے اللہ تعالیٰ مسکرا کر ملا ہے، اور اس کے لئے عرش ہل گیا ہے۔“
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ کہا: ہے: سیدہ اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا جنازہ لایا گیا، تو ان کی والدہ چیخ کر رونے لگیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: ”تمہارے آنسو تھم جانے چاہییں، اور تمہارا غم رخصت ہو جانا چاہیے۔۔۔۔۔۔“ باقی کی روایت حسب سابق ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15696]
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ کہا: ہے: سیدہ اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا جنازہ لایا گیا، تو ان کی والدہ چیخ کر رونے لگیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: ”تمہارے آنسو تھم جانے چاہییں، اور تمہارا غم رخصت ہو جانا چاہیے۔۔۔۔۔۔“ باقی کی روایت حسب سابق ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15696]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5344) أخرجه احمد فى المسند (456/6)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح