🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
10. بَابُ وَقْتِ صَلَاةِ الْعَصْرِ .
عصر کی نماز کا وقت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1707
عَنْ أَبِي أَرْوَى قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الْعَصْرِ بِالْمَدِينَةِ، ثُمَّ آتِي ذَا الْحُلَيْفَةِ قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ، وَهِيَ عَلَى قَدْرِ فَرْسَخَيْنِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو وَاقَدٍ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ، وَضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَالدَّارَقُطْنِيُّ وَجَمَاعَةٌ.
سیدنا ابواروی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں مدینہ منورہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں عصر کی نماز ادا کرتا تھا، پھر میں سورج غروب ہونے سے پہلے ”ذوالحلیفہ“ آ جاتا تھا، اور یہ جگہ دو فرسخ کے فاصلے پر ہے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، امام أحمد نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے، اسے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کیا ہے، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن محمد ابوواقد ہے، جسے امام أحمد نے ”ثقہ“ قرار دیا ہے، جب کہ یحیی بن معین امام دارقطنی رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الصلاة/حدیث: 1707]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف

Majma al-Zawa'id Hadith 1707 in Urdu