مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ التَّكْبِيرِ فِي الْعِيدَيْنِ
عیدین میں تکبیر کہنا
حدیث نمبر: 3203
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ"" مَنْ أَحْيَا لَيْلَةَ الْفِطْرِ وَلَيْلَةَ الْأَضْحَى لَمْ يَمُتْ قَلْبُهُ يَوْمَ تَمُوتُ الْقُلُوبُ" رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ هَارُونَ الْبَلْخِيُّ وَالْغَالِبُ عَلَيْهِ الضَّعْفُ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ابْنُ مَهْدِيٍّ وَغَيْرُهُ، وَلَكِنْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ كَثِيرَةٌ وَاللَّهُ أَعْلَمُ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص عیدالفطر کی رات اور عیدالاضحیٰ کی رات عبادت کرتا ہے، اس کا دل اُس دن نہیں مرے گا جب دل مر جائیں گے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ہارون بلخی ہے، جس پر ضعیف ہونا غالب ہے۔ ابن مہدی اور دیگر حضرات نے اس کی تعریف کی ہے، تاہم ایک بڑی جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3203]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ہارون بلخی ہے، جس پر ضعیف ہونا غالب ہے۔ ابن مہدی اور دیگر حضرات نے اس کی تعریف کی ہے، تاہم ایک بڑی جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/أبواب العيدين/حدیث: 3203]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
Majma al-Zawa'id Hadith 3203 in Urdu