مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. بَابٌ فِي مَوْتِ الْفَجْأَةِ وَالْمَرَضِ قَبْلَ الْمَوْتِ .
اچانک موت اور موت سے پہلے بیمار ہونا
حدیث نمبر: 3883
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ مَوْتِ الْفَجْأَةِ فَقَالَ:" رَاحَةٌ لِلْمُؤْمِنِ، وَأَخْذَةُ أَسَفٍ عَلَى الْفَاجِرِ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ قِصَّةٌ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ قِصَّةٌ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اچانک موت کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: یہ مومن کے لئے راحت ہے، اور فاجر شخص کے لئے افسوس ناک پکڑ ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس میں پورا واقعہ ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ولید و صافی ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الجنائز/حدیث: 3883]
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس میں پورا واقعہ ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ولید و صافی ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الجنائز/حدیث: 3883]
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
Majma al-Zawa'id Hadith 3883 in Urdu