مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. بَابٌ فِيمَا يُسْتَعَاذُ مِنْهُ مِنَ الْمَوْتَاتِ .
موت کی مختلف صورتوں میں سے کن سے پناہ مانگی گئی ہے؟
حدیث نمبر: 3884
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَعَاذَ مِنْ سَبْعِ مَوْتَاتٍ:" مَوْتِ الْفُجَاءَةِ، وَمِنْ لَدْغِ الْحَيَّةِ، وَمِنَ السَّبُعِ، وَمِنَ الْغَرَقِ، وَمِنَ الْحَرْقِ، وَمِنْ أَنْ يَخِرَّ عَلَى شَيْءٍ أَوْ يَخِرَّ عَلَيْهِ شَيْءٌ، وَمِنَ الْقَتْلِ عِنْدَ فِرَارِ الزَّحْفِ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم موت کی سات قسم کی صورتوں سے پناہ مانگتے تھے اچانک موت سانپ کے ڈسنے درندے کی وجہ سے ڈوبنے کی وجہ سے جل جانے کی وجہ سے آدمی کے کسی چیز پر گرنے یا آدمی پر کسی چیز کے گرنے کی وجہ سے اور میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے قتل ہو جانے (کی شکل میں آنے والی موت) سے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) پناہ مانگتے تھے۔
یہ روایت امام أحمد امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الجنائز/حدیث: 3884]
یہ روایت امام أحمد امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الجنائز/حدیث: 3884]
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
Majma al-Zawa'id Hadith 3884 in Urdu