مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. بَابٌ فِيمَا يُسْتَعَاذُ مِنْهُ مِنَ الْمَوْتَاتِ .
موت کی مختلف صورتوں میں سے کن سے پناہ مانگی گئی ہے؟
حدیث نمبر: 3885
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ هَمًّا أَوْ غَمًّا، أَوْ أَنْ أَمُوتَ غَرَقًا وَأَنْ يَتَخَبَّطَنِيَ الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ أَوْ أَمُوتَ لَدِيغًا".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (یعنی آپ نے یہ دعا کی:) ”اے اللہ! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں پریشانی یا غم کی وجہ سے انتقال کر جاؤں یا میں ڈوب کر مر جاؤں یا موت کے وقت شیطان مجھے مخبوط الحواس کر دے یا میں کسی کے ڈسنے کی وجہ سے مر جاؤں“۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسحاق ہے میں نے کسی کو اس کی توثیق کرتے ہوئے نہیں پایا ہے۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الجنائز/حدیث: 3885]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسحاق ہے میں نے کسی کو اس کی توثیق کرتے ہوئے نہیں پایا ہے۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الجنائز/حدیث: 3885]
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
Majma al-Zawa'id Hadith 3885 in Urdu