مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابٌ فِي مَا يُحَرِّمُ دَمَ الْمَرْءِ وَمَالَهُ .
اس چیز (یعنی کلمہ) کا بیان جو آدمی کی جان اور مال کو (دوسرے کے لئے) حرام کر دیتی ہے
حدیث نمبر: 54
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا"، قِيلَ: وَمَا حَقُّهَا؟ قَالَ:" زِنًى بَعْدَ إِحْصَانٍ، أَوْ كُفْرٌ بَعْدَ إِسْلَامٍ، أَوْ قَتْلُ نَفْسٍ فَيُقْتَلُ بِهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ الْبَيْرُوتِيُّ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَوْثِيقِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ الْبَيْرُوتِيُّ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَوْثِيقِهِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کروں، جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہیں پڑھ لیتے، جب وہ یہ پڑھ لیں گے، تو وہ اپنی جانیں اور اموال مجھ سے محفوظ کر لیں گے، البتہ اُن کے حق کا معاملہ مختلف ہے اور ان لوگوں کا حساب، اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا، عرض کی گئی: اُن کے حق سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محصن ہونے کے باوجود زنا کا ارتکاب کرنا، یا اسلام قبول کر لینے کے بعد کفر اختیار کرنا، یا کسی کو قتل کرنا، تو اس کے عوض میں اس شخص کو قتل کر دیا جائے گا۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ہاشم بیروتی ہے، اکثر محدثین نے اس کی توثیق کی ہے [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الإيمان/حدیث: 54]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ہاشم بیروتی ہے، اکثر محدثین نے اس کی توثیق کی ہے [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الإيمان/حدیث: 54]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 3221»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
Majma al-Zawa'id Hadith 54 in Urdu