مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابٌ فِي مَا يُحَرِّمُ دَمَ الْمَرْءِ وَمَالَهُ .
اس چیز (یعنی کلمہ) کا بیان جو آدمی کی جان اور مال کو (دوسرے کے لئے) حرام کر دیتی ہے
حدیث نمبر: 44
عَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنَّ لِي جَارًا مُنَافِقًا يَصْنَعُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟" قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" أُولَئِكَ نُهِيتُ عَنْهُمْ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَسَاتِيرُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى سَيِّئُ الْحِفْظِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَسَاتِيرُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى سَيِّئُ الْحِفْظِ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور بولا: میرا پڑوسی ایک منافق شخص ہے، وہ اس، اس طرح کے کام کرتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا وہ لا الہ الاللہ پڑھتا ہے؟“ اس شخص نے جواب دیا: جی ہاں! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان (یعنی کلمہ گو) لوگوں (کو قتل کرنے) سے مجھے منع کیا گیا ہے“۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ”مستور“ راوی ہیں، اور محمد بن ابولیلی نامی راوی کا حافظہ خراب ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 44]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ”مستور“ راوی ہیں، اور محمد بن ابولیلی نامی راوی کا حافظہ خراب ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 44]
تخریج الحدیث: «اورده المؤلف فى كشف الاستار 3345»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 45
وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي مَجْلِسٍ فَسَارَّهُ يَسْتَأْذِنُهُ فِي قَتْلِ رَجُلٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، فَجَهَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟". قَالَ الْأَنْصَارِيُّ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا شَهَادَةَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ؟". قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا شَهَادَةَ لَهُ. قَالَ:" أَلَيْسَ يُصَلِّي؟". قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا صَلَاةَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أُولَئِكَ الَّذِينَ نَهَانِي اللَّهُ عَنْهُمْ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَأَعَادَهُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ الْأَنْصَارِيِّ حَدَّثَهُ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَأَعَادَهُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ الْأَنْصَارِيِّ حَدَّثَهُ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
عبیدالله بن عدی بن خیار بیان کرتے ہیں: انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے انہیں یہ بات بتائی: کہ ایک مرتبہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک محفل میں تشریف فرما تھے، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سرگوشی میں بات کرتے ہوئے، آپ سے ایک منافق کو قتل کرنے کی اجازت مانگی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں دریافت کیا: کیا وہ شخص اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے؟ اس انصاری نے جواب دیا: جی ہاں! یا رسول اللہ! لیکن اس کی گواہی کی کوئی حیثیت نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا؟ کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ کے رسول ہیں، اس شخص نے جواب دیا: جی ہاں! یا رسول اللہ! لیکن اس کی گواہی کی کوئی حیثیت نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا وہ نماز نہیں پڑھتا ہے؟ اس شخص نے جواب دیا: جی ہاں! یا رسول اللہ! لیکن اُس کی نماز کی کوئی حیثیت نہیں ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ وہ (یعنی کلمہ گو) لوگ ہیں، جن (کو قتل کرنے) سے اللہ تعالیٰ نے مجھے منع کیا ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، انہوں نے یہی روایت دوبارہ، عبیداللہ بن عدی بن خیار کے حوالے سے، عبداللہ بن عدی انصاری سے نقل کی ہے کہ عبداللہ بن عدی نے انہیں یہ حدیث بیان کی اور پھر انہوں نے اسی مضمون کی حدیث ذکر کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 45]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، انہوں نے یہی روایت دوبارہ، عبیداللہ بن عدی بن خیار کے حوالے سے، عبداللہ بن عدی انصاری سے نقل کی ہے کہ عبداللہ بن عدی نے انہیں یہ حدیث بیان کی اور پھر انہوں نے اسی مضمون کی حدیث ذکر کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 45]
تخریج الحدیث: «أورده المؤلف فى زوائد المسند 50»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 46
وَعَنْ جَرِيرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِي إِسْنَادِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْأَكْثَرُونَ، وَقَالَ ابْنُ مَعِينٍ: كَانَ مُسْلِمًا صَدُوقًا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِي إِسْنَادِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْأَكْثَرُونَ، وَقَالَ ابْنُ مَعِينٍ: كَانَ مُسْلِمًا صَدُوقًا.
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اُس وقت تک جنگ کروں، جب تک وہ یہ نہیں کہہ دیتے کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، جب وہ یہ کہہ دیں گے، تو وہ اپنی جانوں اور اموال کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے، البتہ اُن کے حق کا معاملہ مختلف ہے، اور اُن لوگوں کا حساب، اللہ تعالٰی کے ذمہ ہو گا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عیینہ ہے، اکثر محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے یحییٰ بن معین کہتے ہیں: وہ ایک سچا مسلمان تھا [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 46]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عیینہ ہے، اکثر محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے یحییٰ بن معین کہتے ہیں: وہ ایک سچا مسلمان تھا [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 46]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 200/11 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 3625»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 47
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ; عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِي إِسْنَادِهِ مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِي إِسْنَادِهِ مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اُس وقت تک جنگ کروں، جب تک وہ یہ نہیں کہہ دیتے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، جب وہ لا الہ الا اللہ کہہ دیں گے، تو وہ اپنی جانوں اور اموال کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے، البتہ اُن کے حق کا معاملہ مختلف ہے، اور اُن لوگوں کا حساب، اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن ثابت ہے، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ اکثر محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 47]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن ثابت ہے، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ اکثر محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 47]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 48
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ إِسْحَاقَ بْنَ يَزِيدَ الْخَطَّابِيَّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ إِسْحَاقَ بْنَ يَزِيدَ الْخَطَّابِيَّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کروں، جب تک وہ یہ نہیں کہہ دیتے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، جب وہ یہ کہہ دیں گے، تو وہ اپنی جانوں اور اموال کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے، البتہ اُن کے حق کا معاملہ مختلف ہے، اور اُن لوگوں کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے، البتہ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن یزید خطابی ہے، میں اُس سے واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 48]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے، البتہ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن یزید خطابی ہے، میں اُس سے واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 48]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 11487»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 49
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا مَنَعُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ: وَهَذَا الْحَدِيثُ لَا أَعْلَمُهُ يُرْوَى عَنْ أَنَسٍ عَنْ أَبِي بَكْرٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَأَحْسَبُ أَنَّ عِمْرَانَ أَخْطَأَ فِي إِسْنَادِهِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ: وَهَذَا الْحَدِيثُ لَا أَعْلَمُهُ يُرْوَى عَنْ أَنَسٍ عَنْ أَبِي بَكْرٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَأَحْسَبُ أَنَّ عِمْرَانَ أَخْطَأَ فِي إِسْنَادِهِ.
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اُس وقت تک جنگ کروں، جب تک وہ یہ نہیں کہہ دیتے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، جب وہ یہ کہہ دیں گے، تو وہ اپنی جانوں اور اموال کو مجھ سے روک لیں (یعنی محفوظ کر لیں) گے، البتہ ان کے حق کا معاملہ مختلف ہے، اور اُن لوگوں کا حساب، اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا“۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے: وہ فرماتے ہیں: میرے علم کے مطابق، یہ روایت سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے منقول ہونے کے طور پر، صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران نامی راوی نے اس کی سند میں غلطی کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 49]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے: وہ فرماتے ہیں: میرے علم کے مطابق، یہ روایت سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے منقول ہونے کے طور پر، صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران نامی راوی نے اس کی سند میں غلطی کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 49]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 68»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 50
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِذَا شَرَعَ أَحَدُكُمْ بِالرُّمْحِ إِلَى الرَّجُلِ، فَإِنْ كَانَ سِنَانُهُ عِنْدَ ثُغْرَةِ نَحْرِهِ، فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ; فَلْيَرْفَعْ عَنْهُ الرُّمْحَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِي إِسْنَادِهِ الصَّلْتُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّبَيْدِيُّ، لَا تَقُومُ بِهِ حُجَّةٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِي إِسْنَادِهِ الصَّلْتُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّبَيْدِيُّ، لَا تَقُومُ بِهِ حُجَّةٌ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص نیزے کے ذریعے کسی (غیر مسلم) پر حملہ آور ہو، اور جب نیزے کی نوک، اُس (غیر مسلم) کی گردن کے اوپر ہو اور اس وقت وہ لا الہ الا اللہ پڑھ لے، تو مسلمان شخص کو اُس سے نیزا اُٹھا لینا چاہیے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی صلہ بن عبدالرحمن زبیدی ہے، جس کے ذریعے حجت قائم نہیں ہوتی [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 50]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی صلہ بن عبدالرحمن زبیدی ہے، جس کے ذریعے حجت قائم نہیں ہوتی [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 50]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 10292 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 69»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 51
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
ابومالک اشجعی، اپنے والد کے حوالے سے بات نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کروں، جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہیں پڑھ لیتے، جب وہ یہ پڑھ لیں گے، تو وہ اپنی جانیں اور اموال مجھ سے محفوظ کر لیں گے، البتہ ان کے حق کا معاملہ مختلف ہے اور ان لوگوں کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 51]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 51]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 52
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّازُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّازُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ.
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کروں، جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہیں پڑھ لیتے، جب وہ یہ پڑھ لیں گے، تو وہ اپنی جانیں اور اموال مجھ سے محفوظ کر لیں گے، البتہ ان کے حق کا معاملہ مختلف ہے اور ان لوگوں کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عیسیٰ حجاز ہے اور وہ ضعیف ہے، اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 52]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عیسیٰ حجاز ہے اور وہ ضعیف ہے، اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 52]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الأوسط 3625»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 53
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ.
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کروں، جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہیں پڑھ لیتے، جب وہ یہ پڑھ لیں گے، تو وہ اپنی جانیں اور اموال مجھ سے محفوظ کر لیں گے، البتہ ان کے حق کا معاملہ مختلف ہے اور ان لوگوں کا حساب، اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے، جس سے استدلال کرنے میں اختلاف کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 53]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے، جس سے استدلال کرنے میں اختلاف کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 53]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 6465»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف