مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابٌ فِي مَا يُحَرِّمُ دَمَ الْمَرْءِ وَمَالَهُ .
اس چیز (یعنی کلمہ) کا بیان جو آدمی کی جان اور مال کو (دوسرے کے لئے) حرام کر دیتی ہے
حدیث نمبر: 56
وَعَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ: غَزَا عُمَارَةُ بْنُ قَرْضٍ اللَّيْثِيُّ غَزَاةً لَهُ، فَمَكَثَ فِيهَا مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ رَجَعَ، حَتَّى إِذَا كَانَ قَرِيبًا مِنَ الْأَهْوَازِ سَمِعَ صَوْتَ الْأَذَانِ فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا لِي عَهْدٌ بِصَلَاةٍ بِجَمَاعَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مُنْذُ ثَلَاثٍ، وَقَصَدَ نَحْوَ الْأَذَانِ يُرِيدُ الصَّلَاةَ فَإِذَا هُوَ بِالْأَزَارِقَةِ، فَقَالُوا لَهُ: مَا جَاءَ بِكَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ؟ فَقَالَ: مَا أَنْتُمْ إِخْوَانِي. قَالُوا: أَنْتَ أَخُو الشَّيْطَانِ، لَنَقْتُلَنَّكَ. قَالَ: أَمَا تَرْضَوْنَ مِنِّي بِمَا رَضِيَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالُوا: أَيُّ شَيْءٍ رَضِيَ بِهِ مِنْكَ؟ قَالَ: أَتَيْتُهُ وَأَنَا كَافِرٌ، فَشَهِدْتُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ فَخَلَّى عَنِّي. فَأَخَذُوهُ فَقَتَلُوهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حمید بن ہلال بیان کرتے ہیں: سیدنا عمارہ بن قرض لیثی رضی اللہ عنہ ایک جنگ میں شریک ہوئے، جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا، وہ وہاں رہے، پھر وہ واپس روانہ ہو گئے، جب وہ اہواز کے قریب پہنچے اور انہوں نے اذان کی آواز سنی، تو بولے: اللہ کی قسم! میں نے گزشتہ تین دن سے مسلمانوں کے ساتھ باجماعت نماز ادا نہیں کی، وہ اذان کی طرف چل پڑے، اُن کا ارادہ (با جماعت) نماز ادا کرنے کا تھا، لیکن وہ مسجد ”ازارقہ“ (یعنی خوارج) کی تھی، اُن لوگوں نے سیدنا عمارہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے اللہ کے دشمن! تم کیوں آئے ہو؟ سیدنا عمارہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم لوگ میرے بھائی یعنی مسلمان نہیں ہو؟ اُن لوگوں نے کہا: تم شیطان کے بھائی ہو، ہم تمہیں ضرور قتل کر دیں گے، تو سیدنا عمارہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم میری طرف سے اُس چیز سے راضی نہیں ہو گے، جس سے اللہ کے رسول راضی ہوئے تھے؟ اُن لوگوں نے دریافت کیا: وہ کیا چیز تھی؟ جس کی وجہ سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے راضی ہوئے تھے؟ سیدنا عمارہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: ”جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو میں کافر تھا، پھر میں نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور بے شک آپ، اللہ کے رسول ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چھوڑ دیا تھا“۔
(راوی کہتے ہیں:) لیکن اُن خوارج نے انہیں پکڑ کر شہید کر دیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الإيمان/حدیث: 56]
(راوی کہتے ہیں:) لیکن اُن خوارج نے انہیں پکڑ کر شہید کر دیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الإيمان/حدیث: 56]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 8559»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
Majma al-Zawa'id Hadith 56 in Urdu