مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابٌ فِي مَا يُحَرِّمُ دَمَ الْمَرْءِ وَمَالَهُ .
اس چیز (یعنی کلمہ) کا بیان جو آدمی کی جان اور مال کو (دوسرے کے لئے) حرام کر دیتی ہے
حدیث نمبر: 58
وَعَنْ مُسْلِمٍ التَّمِيمِيِّ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَرِيَّةٍ، فَلَمَّا هَجَمْنَا عَلَى الْقَوْمِ تَقَدَّمْتُ أَصْحَابِي عَلَى فَرَسٍ، فَاسْتَقْبَلَنَا النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ يَضِجُّونَ، فَقُلْتُ لَهُمْ: تُرِيدُونَ أَنْ تُحْرِزُوا أَنْفُسَكُمْ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فَقُلْتُ: قُولُوا: نَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فَقَالُوهَا، فَجَاءَ أَصْحَابِي فَلَامُونِي وَقَالُوا: أَشْرَفْنَا عَلَى الْغَنِيمَةِ فَمَنَعْتَنَا، ثُمَّ انْصَرَفْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" أَتَدْرُونَ مَا صَنَعَ؟ لَقَدْ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ إِنْسَانٍ كَذَا وَكَذَا"، ثُمَّ أَدْنَانِي مِنْهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ الْحَارِثُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَهُوَ مَجْهُولٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ الْحَارِثُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَهُوَ مَجْهُولٌ.
سیدنا مسلم تمیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کے رسول نے ہمیں ایک جنگی مہم پر روانہ کیا، جب ہم نے دشمن پر حملہ کیا، تو میں گھوڑے پر سوار ہو کر، اپنے ساتھیوں سے آگے نکل آیا، خواتین اور بچے ہمارے سامنے آئے، جو چیخ و پکار کر رہے تھے، میں نے اُن سے کہا: کیا تم یہ چاہتے ہو کے اپنی جانیں بچا لو؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! میں نے کہا: پھر تم لوگ یہ کہو: ”ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، صرف وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں“ ان لوگوں نے یہ کلمہ پڑھ لیا، جب میرے ساتھی آئے، تو انہوں نے مجھے ملامت کی اور یہ کہا: ہمیں تو غنیمت حاصل ہونے کی توقع تھی، لیکن تم نے وہ ہمیں نہیں ملنے دیا، (راوی بیان کرتے ہیں:) جب ہم لوگ واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، (تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے) میرے ساتھیوں سے فرمایا: کیا تم لوگ یہ جانتے ہو؟ کہ اس نے کیا کیا ہے (یعنی اس شخص کے) اس عمل کا اجر و ثواب کتنا ہو گا؟ اللہ تعالیٰ نے (اسلام قبول کرنے والے) ہر ایک انسان کے بدلے میں اتنی، اتنی (نیکیاں یا اجر و ثواب) اسے عطا کر دیا ہے، راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے قریب کیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کی سند میں ایک راوی حارث بن مسلم ہے، اور وہ مجہول ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الإيمان/حدیث: 58]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کی سند میں ایک راوی حارث بن مسلم ہے، اور وہ مجہول ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الإيمان/حدیث: 58]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
Majma al-Zawa'id Hadith 58 in Urdu