مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابٌ مِنْهُ .
اس (مضمون) سے متعلق دیگر روایات
حدیث نمبر: 66
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَاعِزٍ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" إِنَّ مَاعِزًا أَسْلَمَ أَحْرَزَ مَالَهُ، وَإِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْهِ إِلَّا يَدُهُ"، فَبَايَعْتُ عَلَى ذَلِكَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ هُنَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ، وَهُوَ مَجْهُولٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ هُنَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ، وَهُوَ مَجْهُولٌ.
سیدنا عبداللہ بن ماعز رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ماعز نے اسلام قبول کیا، تو اپنا مال محفوظ کر لیا، اب اُس کے خلاف صرف اُس کا اپنا ہاتھ ہی جنایت کرے گا۔ راوی کہتے ہیں: تو اس بات پر، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر لی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ہنید بن قاسم ہے اور وہ مجہول ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الإيمان/حدیث: 66]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ہنید بن قاسم ہے اور وہ مجہول ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الإيمان/حدیث: 66]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
Majma al-Zawa'id Hadith 66 in Urdu