مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
42. بَابُ كِتَابَةِ الْعِلْمِ .
علم کو تحریر کرنا
حدیث نمبر: 672
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ - قَالَ: كُنَّا قُعُودًا نَكْتُبُ مَا نَسْمَعُ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ:" مَا هَذَا تَكْتُبُونَ؟" فَقُلْنَا: مَا نَسْمَعُ مِنْكَ، فَقَالَ:" أَكِتَابٌ مَعَ كِتَابِ اللَّهِ؟ أَمْحِضُوا كِتَابَ اللَّهِ وَأَخْلَصُوهُ". قَالَ: فَجَمَعْنَا مَا كَتَبْنَاهُ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ أَحْرَقْنَاهُ بِالنَّارِ، فَقُلْنَا: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، نَتَحَدَّثُ عَنْكَ؟ قَالَ:" نَعَمْ، تَحَدَّثُوا عَنِّي وَلَا حَرَجَ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ". قَالَ: قُلْنَا: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، أَنَتَحَدَّثُ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟؟ قَالَ:" نَعَمْ، تَحَدَّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ، فَإِنَّكُمْ لَا تُحَدِّثُونَ عَنْهُمْ بِشَيْءٍ إِلَّا وَقَدْ كَانَ فِيهِمْ أَعْجَبَ مِنْهُ".
قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم لوگ بیٹھے ہوئے وہ باتیں نوٹ کر رہے تھے، جو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی تھیں، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: یہ تم لوگ کیا نوٹ کر رہے ہو؟ ہم نے عرض کی: وہ باتیں جو ہم نے آپ سے سنی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا اللہ کی کتاب کے ہمراہ کچھ اور بھی نوٹ کیا جائے گا؟ تم لوگ صرف اللہ کی کتاب کو رہنے دو! راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے جو کچھ بھی نوٹ کیا ہوا تھا، وہ سب ہم نے ایک میدان میں اکٹھا کیا اور پھر اس کو آگ کے ذریعے جلا دیا، ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے حوالے سے احادیث روایت کر دیا کریں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں! تم میرے حوالے سے حدیث روایت کر دیا کرو! اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اور جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے، وہ جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہے، راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا ہم بنی اسرائیل کے حوالے سے کوئی روایت نقل کر دیا کریں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں! تم لوگ بنی اسرائیل کے حوالے سے کوئی روایت نقل کر دیا کرو! اس میں کوئی حرج نہیں ہے، تم ان کے حوالے سے جو بھی چیز نقل کرو گے، ان کے درمیان اس سے زیادہ عجیب چیز موجود ہو گی۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: ”صحیح“ میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث منقول ہے، لیکن وہ اس سیاق کے بغیر ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے اور وہ ضعیف ہے، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب العلم/حدیث: 672]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے اور وہ ضعیف ہے، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب العلم/حدیث: 672]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام احمد فى مسنده 12/3 اورده المؤلف فى زوائد المسند 215»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
Majma al-Zawa'id Hadith 672 in Urdu