مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
42. بَابُ كِتَابَةِ الْعِلْمِ .
علم کو تحریر کرنا
حدیث نمبر: 670
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ قَالَا: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعْصُوبًا رَأْسُهُ، فَرَقِيَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ:" مَا هَذِهِ الْكُتُبُ الَّتِي يَبْلُغُنِي أَنَّكُمْ تَكْتُبُونَهَا، أَكِتَابٌ مَعَ كِتَابِ اللَّهِ؟ يُوشِكُ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ لِكِتَابِهِ، فَيُسْرَى عَلَيْهِ لَيْلًا ; فَلَا يَتْرُكُ فِي وَرَقَةٍ وَلَا فِي قَلْبٍ مِنْهُ حَرْفًا إِلَّا ذَهَبَ بِهِ"، فَقَالَ بَعْضُ مَنْ حَضَرَ الْمَجْلِسَ: فَكَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ؟ قَالَ:" مَنْ أَرَادَ اللَّهَ بِهِ خَيْرًا أَبْقَى فِي قَلْبِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ الْوَاسِطِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ الْوَاسِطِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: (ایک مرتبہ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر پر کپڑا باندھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور ارشاد فرمایا: ”ان تحریروں کا کیا معاملہ ہے؟ جن کے بارے میں مجھ تک یہ اطلاع پہنچی ہے کہ تم انہیں نوٹ کرتے ہو، کیا اللہ کی کتاب کے ہمراہ کچھ نوٹ کیا جائے گا؟ عنقریب ایسا ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب کی وجہ سے غضبناک ہو گا اور پھر اس کتاب کو رات کے وقت اُٹھا لیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ (اللہ تعالیٰ) کسی ورق میں، یا کسی دل میں اُس کا ایک حرف بھی نہیں چھوڑے گا، مگر یہ کہ اسے اٹھا لے گا“ حاضرین میں سے کسی نے کہا: یا رسول اللہ! پھر مؤمن مردوں اور مؤمن خواتین کا کیا بنے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کرے گا، اُس کے دل میں لا الہ الا اللہ باقی رہنے دے گا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن میمون واسطی ہے اور وہ متروک ہے، حماد بن سلمہ نے اسے ثقہ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 670]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن میمون واسطی ہے اور وہ متروک ہے، حماد بن سلمہ نے اسے ثقہ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 670]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الأوسط 7514»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 671
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"" إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَتَبُوا كِتَابًا وَاتَّبَعُوهُ، وَتَرَكُوا التَّوْرَاةَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ.
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بنی اسرائیل نے تحریر لکھی اور اس کی پیروی کرنے لگے انہوں نے ”تورات“ کو چھوڑ دیا۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عثمان بن ابوشیبہ ہے اور وہ ثقہ ہے، ایک سے زیادہ حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 671]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عثمان بن ابوشیبہ ہے اور وہ ثقہ ہے، ایک سے زیادہ حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 671]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 5548»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 672
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ - قَالَ: كُنَّا قُعُودًا نَكْتُبُ مَا نَسْمَعُ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ:" مَا هَذَا تَكْتُبُونَ؟" فَقُلْنَا: مَا نَسْمَعُ مِنْكَ، فَقَالَ:" أَكِتَابٌ مَعَ كِتَابِ اللَّهِ؟ أَمْحِضُوا كِتَابَ اللَّهِ وَأَخْلَصُوهُ". قَالَ: فَجَمَعْنَا مَا كَتَبْنَاهُ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ أَحْرَقْنَاهُ بِالنَّارِ، فَقُلْنَا: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، نَتَحَدَّثُ عَنْكَ؟ قَالَ:" نَعَمْ، تَحَدَّثُوا عَنِّي وَلَا حَرَجَ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ". قَالَ: قُلْنَا: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، أَنَتَحَدَّثُ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟؟ قَالَ:" نَعَمْ، تَحَدَّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ، فَإِنَّكُمْ لَا تُحَدِّثُونَ عَنْهُمْ بِشَيْءٍ إِلَّا وَقَدْ كَانَ فِيهِمْ أَعْجَبَ مِنْهُ".
قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم لوگ بیٹھے ہوئے وہ باتیں نوٹ کر رہے تھے، جو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی تھیں، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: یہ تم لوگ کیا نوٹ کر رہے ہو؟ ہم نے عرض کی: وہ باتیں جو ہم نے آپ سے سنی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا اللہ کی کتاب کے ہمراہ کچھ اور بھی نوٹ کیا جائے گا؟ تم لوگ صرف اللہ کی کتاب کو رہنے دو! راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے جو کچھ بھی نوٹ کیا ہوا تھا، وہ سب ہم نے ایک میدان میں اکٹھا کیا اور پھر اس کو آگ کے ذریعے جلا دیا، ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے حوالے سے احادیث روایت کر دیا کریں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں! تم میرے حوالے سے حدیث روایت کر دیا کرو! اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اور جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے، وہ جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہے، راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا ہم بنی اسرائیل کے حوالے سے کوئی روایت نقل کر دیا کریں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں! تم لوگ بنی اسرائیل کے حوالے سے کوئی روایت نقل کر دیا کرو! اس میں کوئی حرج نہیں ہے، تم ان کے حوالے سے جو بھی چیز نقل کرو گے، ان کے درمیان اس سے زیادہ عجیب چیز موجود ہو گی۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: ”صحیح“ میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث منقول ہے، لیکن وہ اس سیاق کے بغیر ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے اور وہ ضعیف ہے، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 672]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے اور وہ ضعیف ہے، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 672]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام احمد فى مسنده 12/3 اورده المؤلف فى زوائد المسند 215»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 673
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"" لَا تَكْتُبُوا عَنِّي إِلَّا الْقُرْآنَ، فَمَنْ كَتَبَ عَنِّي غَيْرَ الْقُرْآنِ فَلْيَمْحُهُ، وَحَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”میرے حوالے سے صرف قرآن نوٹ کرو! جس نے میرے حوالے سے قرآن کے علاوہ کچھ اور نوٹ کیا ہو، وہ اُس تحریر کو مٹا دے! بنی اسرائیل کے حوالے سے کوئی روایت نقل کر دو! اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔“ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے۔“
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 673]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 673]
تخریج الحدیث: «اورده المؤلف فى كشف الاستار 194»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 674
وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى قَالَ: كَتَبْتُ عَنْ أَبِي كِتَابًا، فَقَالَ: لَوْلَا أَنَّ فِيهِ كِتَابَ اللَّهِ لَأَحْرَقْتُهُ، ثُمَّ دَعَا بِمِرْكَنٍ أَوْ بِإِجَّانَةٍ، فَغَسَلَهَا ثُمَّ قَالَ: عِ عَنِّي مَا سَمِعْتَ مِنِّي، وَلَا تَكْتُبْ عَنِّي ; فَإِنِّي لَمْ أَكْتُبْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كِتَابًا، كِدْتَ أَنْ تُهْلِكَ أَبَاكَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّ الْبَزَّارَ قَالَ: احْفَظْ كَمَا حَفِظْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّ الْبَزَّارَ قَالَ: احْفَظْ كَمَا حَفِظْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوبردہ بن سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد کے حوالے سے کچھ باتیں نوٹ کیں، تو انہوں نے فرمایا: اگر اس میں اللہ کی کتاب کی آیات نہ ہوتیں، تو میں نے اس کو جلا دینا تھا، پھر اُنہوں نے ایک ٹب، یا بڑا برتن منگوایا اور اُس تحریر کو دھو دیا، پھر انہوں نے فرمایا: تم مجھ سے جو کچھ بھی سنتے ہو، اسے ذہن میں محفوظ رکھو! لیکن میرے حوالے سے کوئی چیز نوٹ نہ کرو! کیونکہ میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی تحریر نوٹ نہیں کی ہے (اگر تم نے میرے حوالے سے کچھ نوٹ کیا) تو قریب ہے (یعنی اس بات کا امکان موجود ہے) کہ تم اپنے باپ کو ہلاکت کا شکار کر دو گے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”تم اسی طرح یاد رکھو! جس طرح ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے باتیں یاد رکھی ہیں۔“ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 674]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”تم اسی طرح یاد رکھو! جس طرح ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے باتیں یاد رکھی ہیں۔“ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 674]
تخریج الحدیث: «اورده المؤلف فى كشف الاستار 195.»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 675
وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ أَيْضًا قَالَ: كُنْتُ إِذَا سَمِعْتُ مِنْ أَبِي حَدِيثًا كَتَبْتُهُ فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ، كَيْفَ تَصْنَعُ؟ قُلْتُ: إِنِّي أَكْتُبُ مَا أَسْمَعُ مِنْكَ. قَالَ: فَأْتِنِي بِهِ، فَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ فَقَالَ: نَعَمْ، هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَكِنِّي أَخَافُ أَنْ يَزِيدَ أَوْ يَنْقُصَ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَهَذِهِ الطَّرِيقُ فِيهَا خَالِدُ بْنُ نَافِعٍ، ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَأَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُمَا.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَهَذِهِ الطَّرِيقُ فِيهَا خَالِدُ بْنُ نَافِعٍ، ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَأَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُمَا.
ابوبردہ سے ہی یہ روایت منقول ہے: وہ بیان کرتے ہیں: جب میں اپنے والد سے کوئی حدیث سنتا تھا، تو اسے نوٹ کر لیا کرتا تھا، ایک مرتبہ انہوں نے دریافت کیا: اے میرے بیٹے! تم کیا کرتے ہو؟ میں نے جواب دیا: میں آپ سے جو روایت سنتا ہوں، اسے نوٹ کر لیتا ہوں، انہوں نے فرمایا: وہ (تحریر) میرے پاس لے کر آؤ! میں نے اُن کے سامنے وہ تحریر پڑھی، تو انہوں نے فرمایا: جی ہاں! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے، لیکن مجھے یہ اندیشہ ہے کہ اس میں کوئی اضافہ یا کمی نہ ہو گئی ہو۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن نافع ہے، جسے امام نسائی رحمہ اللہ، امام ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 675]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن نافع ہے، جسے امام نسائی رحمہ اللہ، امام ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 675]
تخریج الحدیث: «اورده المؤلف فى كشف الاستار 197»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 676
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: مَا كَانَ أَحَدٌ أَعْلَمَ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنِّي، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ; فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ بِيَدِهِ وَيَعِيهِ بِقَلْبِهِ، وَكُنْتُ أَعِيهِ بِقَلْبِي وَلَا أَكْتُبُ بِيَدِي، وَاسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْكِتَابَةِ عَنْهُ فَأَذِنَ لَهُ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ، خَلَا اسْتِئْذَانِهِ فِي الْكِتَابَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ، وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، وَابْنُ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ، وَعَمْرٌو فِيهِ كَلَامٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ، خَلَا اسْتِئْذَانِهِ فِي الْكِتَابَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ، وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، وَابْنُ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ، وَعَمْرٌو فِيهِ كَلَامٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا مجھ سے زیادہ عالم اور کوئی نہیں تھا، البتہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا معاملہ مختلف ہے، کیونکہ وہ حدیث کو اپنے ہاتھ کے ذریعے نوٹ کرتے تھے اور دل میں محفوظ بھی کرتے تھے، جبکہ میں دل میں اُس کو محفوظ کر لیتا تھا، لیکن ہاتھ کے ذریعے نوٹ نہیں کرتا تھا، اُنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نوٹ کرنے کی اجازت مانگی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دیدی تھی۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ”صحیح“ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے، جو اس سیاق کے علاوہ ہے اور اس میں تحریر کی اجازت مانگنے اور دیگر امور کا تذکرہ نہیں ہے، یہ روایت ابن اسحاق نے عمرو بن شعیب سے نقل کی ہے، ابن اسحاق، تدلیس کرنے والا شخص ہے، جبکہ عمرو کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 676]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ”صحیح“ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے، جو اس سیاق کے علاوہ ہے اور اس میں تحریر کی اجازت مانگنے اور دیگر امور کا تذکرہ نہیں ہے، یہ روایت ابن اسحاق نے عمرو بن شعیب سے نقل کی ہے، ابن اسحاق، تدلیس کرنے والا شخص ہے، جبکہ عمرو کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 676]
تخریج الحدیث: «اورده المؤلف فى زوائد المسند 214»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 677
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" تَحَدَّثُوا، وَلْيَتَبَوَّأَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مَقْعَدَهُ مِنْ جَهَنَّمَ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَسْمَعُ مِنْكَ أَشْيَاءَ فَنَكْتُبُهَا؟ قَالَ:" اكْتُبُوا وَلَا حَرَجَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو مُدْرِكٍ، رَوَى عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، وَعَنْهُ بَقِيَّةُ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو مُدْرِكٍ، رَوَى عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، وَعَنْهُ بَقِيَّةُ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ.
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ حدیث روایت کرو! لیکن جو شخص میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے گا، اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے (راوی بیان کرتے ہیں:) میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم آپ سے کچھ باتیں سنتے ہیں، کیا ہم انہیں نوٹ کر لیا کریں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم نوٹ کر لیا کرو! اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابومدرک ہے، جس نے رفاعہ بن رافع سے روایت نقل کی ہے، جبکہ اس سے بقیہ نے روایت نقل کی ہے، میں نے کسی کو اُس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 677]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابومدرک ہے، جس نے رفاعہ بن رافع سے روایت نقل کی ہے، جبکہ اس سے بقیہ نے روایت نقل کی ہے، میں نے کسی کو اُس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 677]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 678
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: كَانَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَأَنَا مَعَهُمْ، وَأَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ"، فَلَمَّا خَرَجَ الْقَوْمُ قُلْتُ: كَيْفَ تُحَدِّثُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ سَمِعْتُمْ مَا قَالَ وَأَنْتُمْ تَنْهَمِكُونَ فِي الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَضَحِكُوا فَقَالُوا: يَا ابْنَ أَخِينَا، إِنَّ كُلَّ مَا سَمِعْنَا مِنْهُ عِنْدَنَا فِي كِتَابٍ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے کچھ اصحاب موجود تھے، اُن کے ساتھ میں بھی تھا اور میں اُن میں سب سے کم عمر تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے گا، وہ جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے، تو میں نے کہا: آپ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث کیسے روایت کریں گے؟ جبکہ آپ حضرات نے وہ بات سن لی ہے، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: (کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی غلط بات منسوب کرنے کا انجام کیا ہو گا؟) تو اب آپ حضرات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث روایت کرنے سے رک جائیں گے، تو وہ لوگ ہنس پڑے اور بولے: اے ہمارے بھتیجے! ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بھی سنا ہے، وہ ہمارے پاس تحریری طور پر موجود ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس روایت کی سند میں ایک راوی اسحاق بن یحیی بن طلحہ ہے اور وہ راوی متروک الحدیث ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 678]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس روایت کی سند میں ایک راوی اسحاق بن یحیی بن طلحہ ہے اور وہ راوی متروک الحدیث ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 678]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 679
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُقَيِّدُ الْعِلْمَ؟ قَالَ:" نَعَمْ". قُلْتُ: وَمَا تَقْيِيدُهُ؟ قَالَ:" الْكِتَابَةُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمِّلِ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ ابْنُ سَعْدٍ: ثِقَةٌ قَلِيلُ الْحَدِيثِ وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ أَحَادِيثُهُ مَنَاكِيرُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمِّلِ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ ابْنُ سَعْدٍ: ثِقَةٌ قَلِيلُ الْحَدِيثِ وَقَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ أَحَادِيثُهُ مَنَاكِيرُ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں علم کو قید کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں! میں نے دریافت کیا: اُس کو قید کرنے کا طریقہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تحریر کر لینا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مؤمل ہے، جسے یحیی بن معین اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے، ابن سعد کہتے ہیں، یہ ثقہ، لیکن قلیل الحدیث ہے، امام أحمد فرماتے ہیں: اس کی نقل کردہ احادیث منکر ہوتی ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 679]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مؤمل ہے، جسے یحیی بن معین اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے، ابن سعد کہتے ہیں، یہ ثقہ، لیکن قلیل الحدیث ہے، امام أحمد فرماتے ہیں: اس کی نقل کردہ احادیث منکر ہوتی ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 679]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 5056»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف