مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابٌ فِيمَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا .
اس شخص کا بیان، جو کوئی قسم اٹھاتا ہے پھر (قسم کے برخلاف کرنا) اس سے زیادہ بہتر سمجھتا ہے
حدیث نمبر: 6936
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا فَلْيَأْتِهَا، فَإِنَّهَا كَفَّارَتُهَا إِلَّا طَلَاقًا أَوْ عَتَاقًا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيُّ رَمَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ بِالْكَذِبِ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ، وَقَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: صُوَيْلِحٌ يُعْتَبَرُ بِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيُّ رَمَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ بِالْكَذِبِ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ، وَقَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: صُوَيْلِحٌ يُعْتَبَرُ بِهِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کوئی قسم اٹھائے، پھر اس کے علاوہ کوئی کام کو (اس سے زیادہ بہتر دیکھے) تو وہ کام کر لے، کیونکہ اس کا کفارہ یہی ہو گا، البتہ طلاق دینے، یا غلام آزاد کرنے کا معاملہ مختلف ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عمرو بن مالک نکری ہے، جس پر حماد بن زید نے جھوٹا ہونے کا الزام عائد کیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے، امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ کم درجہ کا صالح ہے اور اس کا اعتبار کیا جائے گا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 6936]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عمرو بن مالک نکری ہے، جس پر حماد بن زید نے جھوٹا ہونے کا الزام عائد کیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے، امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ کم درجہ کا صالح ہے اور اس کا اعتبار کیا جائے گا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 6936]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12793)»
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
Majma al-Zawa'id Hadith 6936 in Urdu