مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابٌ فِيمَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا .
اس شخص کا بیان، جو کوئی قسم اٹھاتا ہے پھر (قسم کے برخلاف کرنا) اس سے زیادہ بہتر سمجھتا ہے
حدیث نمبر: 6935
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا فَكَفَّارَتُهَا تَرْكُهَا".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کوئی قسم اٹھائے اور پھر کوئی کام اس سے زیادہ بہتر دیکھے، تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ اس کو ترک کر دے“۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6935]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6935]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (76/3)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 6936
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا فَلْيَأْتِهَا، فَإِنَّهَا كَفَّارَتُهَا إِلَّا طَلَاقًا أَوْ عَتَاقًا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيُّ رَمَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ بِالْكَذِبِ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ، وَقَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: صُوَيْلِحٌ يُعْتَبَرُ بِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيُّ رَمَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ بِالْكَذِبِ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ، وَقَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: صُوَيْلِحٌ يُعْتَبَرُ بِهِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کوئی قسم اٹھائے، پھر اس کے علاوہ کوئی کام کو (اس سے زیادہ بہتر دیکھے) تو وہ کام کر لے، کیونکہ اس کا کفارہ یہی ہو گا، البتہ طلاق دینے، یا غلام آزاد کرنے کا معاملہ مختلف ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عمرو بن مالک نکری ہے، جس پر حماد بن زید نے جھوٹا ہونے کا الزام عائد کیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے، امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ کم درجہ کا صالح ہے اور اس کا اعتبار کیا جائے گا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6936]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عمرو بن مالک نکری ہے، جس پر حماد بن زید نے جھوٹا ہونے کا الزام عائد کیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے، امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ کم درجہ کا صالح ہے اور اس کا اعتبار کیا جائے گا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6936]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12793)»
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 6937
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا [ يَعْنِي ] خَيْرًا مِنْهَا، فَكَفَّارَتُهَا تَرْكُهَا".
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی قسم کے بارے میں حلف اٹھا لے، اور پھر اس کے علاوہ کام کو اس سے زیادہ بہتر سمجھے، تو اسے چھوڑ دے“۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن بیلمانی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6937]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن بیلمانی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6937]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (5762)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6938
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا مُوسَى اسْتَحْمَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَافَقَ مِنْهُ شُغْلًا فَقَالَ:" وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكَ". فَلَمَّا قَفَا دَعَاهُ فَحَمَلَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنِي قَالَ:" فَأَنَا أَحْلِفُ لَأَحْمِلَنَّكَ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کے لئے جانور مانگا، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی اور طرف مصروف تھے، آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہیں جانور نہیں دوں گا جب سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ چلے گئے تو آپ نے انہیں بلوایا اور سواری کے لئے انہیں جانور دیدیا، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے تو یہ حلف اٹھایا کہ آپ مجھے سواری کے لئے جانور نہیں دیں گے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اب میں یہ حلف اٹھاتا ہوں کہ میں تمہیں سواری کا جانور ضرور دوں گا۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6938]
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6938]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1344) اخرجه ابو يعلى فى المسند (3835) اخرجه احمد فى المسند (12056 و 12835 و12836 و 13471 و 13621)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 6939
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَسْتَحْمِلُهُ فِي نَفَرٍ مِنْ قَوْمِي، فَقَالَ:" وَاللَّهِ مَا أَحْمِلُكُمْ وَاللَّهِ مَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ" مَرَّتَيْنِ. فَأُتِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِثَلَاثَةِ أَجَمَالٍ غُرِّ الذُّرَى، فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا فَحَمَلَنَا، فَلَمَّا مَضَيْنَا قُلْتُ لِأَصْحَابِي: مَا أَرَاهُ أَنْ يُبَارَكَ لَنَا فِيهَا، وَقَدْ حَلَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ لَا يَحْمِلَنَا، ثُمَّ حَمَلَنَا. فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ فَأَخْبَرَنَاهُ بِيَمِينِهِ فَقَالَ:" لَمْ أَنْسَ يَمِينِي، وَلَكِنِّي إِذَا حَلَفْتُ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتُ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَعَلْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي الْأَوْسَطِ طَرَفٌ مِنْهُ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ زَرْبَى، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي الْأَوْسَطِ طَرَفٌ مِنْهُ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ زَرْبَى، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں اپنی قوم کے کچھ افراد کے ساتھ تھا، میں نے آپ سے سواری کے لئے جانور مانگے، تو آپ نے ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری کے لئے جانور نہیں دوں گا، اللہ کی قسم! میرے پاس تمہیں دینے کے لئے سواری کا کوئی جانور ہے بھی نہیں، یہ بات آپ نے دو مرتبہ ارشاد فرمائی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عمدہ قسم کے تین اونٹ لائے گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پیغام بھیجا، اور وہ ہمیں سواری کے لئے دے دیے پھر ہم وہاں سے روانہ ہوئے، تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: میرا یہ خیال ہے کہ ان جانوروں میں ہمارے لئے برکت نہیں رکھی جائے گی، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ حلف اٹھا لیا تھا کہ آپ ہمیں سواری کے لئے جانور نہیں دیں گے، لیکن پھر آپ نے ہمیں دے دیے ہیں، ہم واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو آپ کی قسم کے بارے میں بتایا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”میں اپنی قسم بھولا نہیں ہوں، لیکن جب میں کوئی قسم اٹھا لوں اور پھر اس کے علاوہ کام کو اس سے بہتر سمجھوں، تو وہ کام کروں گا جو زیادہ بہتر ہو گا اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اس کا ایک حصہ نقل کیا ہے، اس کی سند میں ایک راوی زربی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6939]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اس کا ایک حصہ نقل کیا ہے، اس کی سند میں ایک راوی زربی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6939]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (158/18)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6940
وَرُوِيَ فِي الْكَبِيرِ بِإِسْنَادٍ إِلَى عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ أَيْضًا: أَنَّ أَبَا مُوسَى أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَحْمِلُهُ، قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. أَحَالَهُ عَلَى حَدِيثِهِ الطَّوِيلِ هَذَا.
وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ ضَعَّفَهُ الذَّهَبِيُّ.
وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ ضَعَّفَهُ الذَّهَبِيُّ.
معجم کبیر میں اس سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی گئی ہے: سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے سواری کے لئے جانور مانگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے، تو انہوں نے اس طویل حدیث کی طرف رجوع کرنے کے لئے کہہ دیا ہے۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن محمد بن عرق ہے، جسے امام ذہبی نے ضعیف قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6940]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (199/18 و200)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6941
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِبِلًا فَفَرَّقَهَا، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: أَجِدْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ:" لَا". فَقَالَ لَهُ ثَلَاثًا فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" وَاللَّهِ لَا أَفْعَلُ". وَبَقِيَ أَرْبَعٌ غُرُّ الذَّرَى، فَقَالَ:" خُذْهُنَّ يَا أَبَا مُوسَى". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي اسْتَجْدَيْتُكَ فَمَنَعْتَنِي وَحَلَفْتَ، فَأَشْفَقْتُ أَنْ يَكُونَ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهْمٌ فَقَالَ:" إِنِّي إِذَا حَلَفْتُ فَرَأَيْتُ غَيْرَ ذَلِكَ أَفْضَلَ كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ أَفْضَلُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مال فئے کے طور پر اونٹ دیے تو آپ نے انہیں تقسیم کیا، سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے بھی عطا کیجئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں! انہوں نے تین مرتبہ آپ کی خدمت میں گزارش کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم میں ایسا نہیں کروں گا، پھر چار عمدہ قسم کے اونٹ آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابوموسیٰ! تم انہیں لے لو، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! پہلے میں نے آپ سے سواری کے لئے مانگے تھے تو آپ نے مجھے منع کر دیا تھا اور حلف اٹھا لیا تھا، اب مجھے یہ اندیشہ ہے کہ شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں جب حلف اٹھاؤں اور پھر اس کے علاوہ کام کو زیادہ فضیلت والا دیکھوں، تو میں اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا اور وہ کام کروں گا، جو زیادہ فضیلت والا ہو گا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6941]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6941]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 6942
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ أَحْلِفُ عَلَى الشَّيْءِ، ثُمَّ أَنْدَمُ عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں ایک ایسا شخص ہوں، جو کسی چیز کے حوالے سے حلف اٹھا لیتا ہوں اور پھر مجھے اس پر ندامت ہوتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کوئی حلف اٹھائے اور پھر اس کے علاوہ کام کو اُس سے زیادہ بہتر سمجھے تو وہ کام کر لے، جو زیادہ بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دیدئے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے، جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6942]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے، جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6942]
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6943
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُذَيْنَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُذَيْنَةَ ثِقَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُذَيْنَةَ ثِقَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
عبدالرحمن بن اذینہ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کوئی قسم اٹھائے، پھر اس کے علاوہ کام کو، اس سے زیادہ بہتر سمجھے تو وہ کام کرے، جو زیادہ بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دیدے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، عبداللہ بن اذینہ نامی راوی ثقہ ہے، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ (شروع میں راوی کا نام عبدالرحمن بن اذینہ ذکر ہوا ہے، شاید کاتب کی غلطی ہے، یا پھر راوی کوئی اور ہو گا)۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6943]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، عبداللہ بن اذینہ نامی راوی ثقہ ہے، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ (شروع میں راوی کا نام عبدالرحمن بن اذینہ ذکر ہوا ہے، شاید کاتب کی غلطی ہے، یا پھر راوی کوئی اور ہو گا)۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6943]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (837)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 6944
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا، فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حَبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حَبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کوئی قسم اٹھائے اور پھر کسی چیز کو اس سے زیادہ بہتر دیکھے، تو وہ اپنی قسم کا کفارہ دیدے اور وہ کام کر لے، جو زیادہ بہتر ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6944]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6944]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (6907)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف