مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابٌ : فِيمَنْ نَذَرَ أَنْ يَحُجَّ مَاشِيًا أَوْ يَخْزِمَ أَنْفَهُ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ .
اس شخص کا بیان، جو یہ نذر مانتا ہے کہ وہ پیدل حج کو جائے گا، یا اپنی ناک چھیدوا لے گا یا اس کے علاوہ کوئی اور (نذر مانتا ہے)
حدیث نمبر: 6968
وَعَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ قَالَ:" مُرْ أُخْتَكَ أَنْ تَرْكَبَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ أُخْتِكَ نَفْسَهَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْكُوفِيُّ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ، وَالْبُخَارِيُّ وَابْنُ الْمَدِينِيِّ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْكُوفِيُّ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ، وَالْبُخَارِيُّ وَابْنُ الْمَدِينِيِّ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: میری بہن نے یہ نذر مانی ہے، وہ پیدل چل کر بیت اللہ تک جائے گی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اپنی بہن سے کہو کہ وہ سوار ہو جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس چیز سے بے نیاز ہے کہ تمہاری بہن اپنے آپ کو عذاب کا شکار کرے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر کوفی ہے، جسے امام أحمد امام بخاری رحمہ اللہ علی بن مدینی نے ضعیف قرار دیا ہے اور یحیی بن معین نے اس کی توثیق کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 6968]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر کوفی ہے، جسے امام أحمد امام بخاری رحمہ اللہ علی بن مدینی نے ضعیف قرار دیا ہے اور یحیی بن معین نے اس کی توثیق کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 6968]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلي فى المسند (2737) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1229) اخرجه احمد فى المسند (253,239/1 ,310 311 315)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
Majma al-Zawa'id Hadith 6968 in Urdu