مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ .
نکاح متعہ کا بیان
حدیث نمبر: 7392
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: أَتَدْرِي مَا صَنَعْتَ وَبِمَا أَفْتَيْتَ؟ سَارَتْ بِفُتْيَاكَ الرُّكْبَانُ وَقَالَتْ فِيهِ الشُّعَرَاءُ. قَالَ: وَمَا قَالُوا؟ قُلْتُ: قَالُوا:
قَدْ قَالَ لِلشَّيْخِ لَمَّا طَالَ مَجْلِسُهُ يَا صَاحِ هَلْ لَكَ فِي فُتْيَا ابْنِ عَبَّاسِ.
هَلْ لَكَ فِي رَخْصَةِ الْأَطْرَافِ آنِسَةٍ
تَكُونُ مَثْوَاكَ حَتَّى مَصْدَرِ النَّاسِ.
فَقَالَ: إِنَّا لِلَّهِ، وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ. وَاللَّهِ مَا بِهَذَا أَفْتَيْتُ، وَلَا هَذَا أَرَدْتُ، وَلَا أَحْلَلْتُ مِنْهَا إِلَّا مَا أَحَلَّ اللَّهُ مِنَ الْمَيْتَةِ وَالدَّمِ وَلَحْمِ الْخِنْزِيرِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
قَدْ قَالَ لِلشَّيْخِ لَمَّا طَالَ مَجْلِسُهُ يَا صَاحِ هَلْ لَكَ فِي فُتْيَا ابْنِ عَبَّاسِ.
هَلْ لَكَ فِي رَخْصَةِ الْأَطْرَافِ آنِسَةٍ
تَكُونُ مَثْوَاكَ حَتَّى مَصْدَرِ النَّاسِ.
فَقَالَ: إِنَّا لِلَّهِ، وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ. وَاللَّهِ مَا بِهَذَا أَفْتَيْتُ، وَلَا هَذَا أَرَدْتُ، وَلَا أَحْلَلْتُ مِنْهَا إِلَّا مَا أَحَلَّ اللَّهُ مِنَ الْمَيْتَةِ وَالدَّمِ وَلَحْمِ الْخِنْزِيرِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے کیا کیا ہے؟ اور آپ نے کیا فتویٰ دیا ہے؟ سواروں نے آپ کا فتویٰ پھیلا دیا ہے، اور اس کے بارے میں شاعروں نے شعر بھی کہے ہیں، انہوں نے دریافت کیا: ان شاعروں نے کیا کہا: ہے؟ میں نے جواب دیا: ان شاعروں نے یہ کہا: ہے: ”اس نے بزرگ سے کہا: جب اس کی ہم نشینی طویل ہو گئی کہ اے شخص! کیا تمہیں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے فتوی میں دلچسپی ہے؟ کیا تم رخصت میں دلچسپی رکھتے ہو کہ وہ تمہارا ٹھکانہ ہو جائے، جب تک لوگ واپس نہیں آتے“۔ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: انا للہ وانا الیہ راجعون، اللہ کی قسم! میں نے یہ فتویٰ نہیں دیا، اور نہ ہی میں نے یہ ارادہ کیا ہے، اور نہ ہی میں نے اس حوالے سے کسی ایسی چیز کو حلال قرار دیا ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے حلال قرار نہ دیا ہو، اس کا تعلق مردار، یا خون، یا خنزیر کے گوشت سے ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب النكاح/حدیث: 7392]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب النكاح/حدیث: 7392]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10601)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
Majma al-Zawa'id Hadith 7392 in Urdu