🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

22. بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ .
نکاح متعہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7383
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كُنَّا نَتَمَتَّعُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالثَّوْبِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم ایک کپڑے کے عوض میں متعہ کر لیتے تھے۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7383]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1441)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7384
وَعَنْ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ الْفَتْحِ فَأَقَمْنَا خَمْسَ عَشْرَةَ، ثَلَاثِينَ مِنْ بَيْنِ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ قَالَ: فَأَذِنَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمُتْعَةِ. قَالَ: فَخَرَجْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي فِي أَسْفَلِ مَكَّةَ - أَوْ قَالَ: فِي أَعْلَى مَكَّةَ - فَلَقِيَتْنَا فَتَاةٌ كَأَنَّهَا مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ كَأَنَّهَا الْبَكْرَةُ الْعَنَطْنَطَةُ قَالَ: فَأَنَا قَرِيبٌ مِنَ الدَّمَامَةِ وَعَلَيَّ بُرْدٌ جَدِيدٌ [ غَضٌّ ] وَعَلَى ابْنِ عَمِّي بُرْدٌ خَلَقٌ. قَالَ: فَقُلْنَا لَهَا: هَلْ لَكِ أَنْ يَسْتَمْتِعَ مِنْكِ أَحَدُنَا؟ قَالَتْ: وَهَلْ يَصْلُحُ ذَلِكَ؟ قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَتْ: فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَى ابْنِ عَمِّي فَقُلْتُ لَهَا: إِنَّ بُرْدِي هَذَا جَدِيدٌ غَضٌّ وَبُرْدُ ابْنِ عَمِّي خَلَقٌ مَحٌّ. قَالَتْ: بُرْدُ ابْنِ عَمِّكَ هَذَا لَا بَأْسَ بِهِ. قَالَ: فَاسْتَمْتَعَ مِنْهَا فَلَمْ نَخْرُجْ مِنْ مَكَّةَ حَتَّى حَرَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.
قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ عَلَى الْعَكْسِ مِنْ هَذَا.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا سبرہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ فتح مکہ کے سال روانہ ہوئے، ہم نے (مکہ میں) پندرہ سے لے کر تیس کے درمیان دنوں کا قیام کیا، اس دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں متعہ کرنے کی اجازت دے دی، راوی کہتے ہیں: میں اور میرا چچازاد مکہ کے زیریں علاقے میں (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں:) بالائی علاقے میں نکلے، ہماری ملاقات ایک نوجوان خاتون سے ہوئی، جس کا تعلق بنو عامر بن صعصعہ سے لگ رہا تھا، اور وہ لمبی گردن کی مالک جوان عورت تھی، میں کچھ بدصورت تھا، میرے جسم پر عمدہ لباس تھا اور میرے چازاد کی چادر پرانی تھی، ہم نے اس سے کہا: کیا ہم میں سے کوئی ایک تمہارے ساتھ متعہ کر سکتا ہے؟ اس نے دریافت کیا: کیا یہ درست ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں! اس نے میرے چچازاد کی طرف دیکھنا شروع کیا، میں نے اس سے کہا: میری یہ چادر نئی اور عمدہ ہے اور میرے چچازاد کی چادر پرانی اور بوسیدہ ہے، اس نے کہا: تمہارے چچازاد کی چادر میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، پھر اس چچازاد نے اس عورت کے ساتھ متعہ کر لیا، پھر ہمارے مکہ سے نکلنے سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار دے دیا۔
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں:
یہ روایت صحیح میں اس کے برعکس منقول ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7384]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (15346)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7385
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَنَزَلْنَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَصَابِيحَ وَرَأَى نِسَاءً يَبْكِينَ فَقَالَ:" مَا هَذَا؟" فَقَالَ: نِسَاءٌ يَبْكِينَ تُمُتِّعَ مِنْهُنَّ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" حُرِّمَ" أَوْ قَالَ:" هَدَمَ الْمُتْعَةَ النِّكَاحُ وَالطَّلَاقُ وَالْعِدَّةُ وَالْمِيرَاثُ".
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ، وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: غزوہ تبوک کے موقع پر ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہم نے ثنیہ الوداع کے پاس پڑاؤ کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ چراغ دیکھے اور کچھ خواتین کو روتے ہوئے دیکھ کر دریافت کیا: ان کا کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے عرض کی: یہ خواتین ہیں جو رو رہی ہیں، جن سے متعہ کیا جاتا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے حرام قرار دے دیا گیا ہے (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں:) نکاح، طلاق، عدت اور میراث نے متعہ کو کالعدم کر دیا ہے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی مؤمل بن اسماعیل ہے، جسے یحیی بن معین اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے، امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7385]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6625)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7386
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: خَرَجْنَا وَمَعَنَا النِّسَاءُ اللَّاتِي اسْتَمْتَعْنَا بِهِنَّ حَتَّى أَتَيْنَا ثَنِيَّةَ الرِّكَابِ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَؤُلَاءِ النِّسْوَةُ اللَّاتِي اسْتَمْتَعْنَا بِهِنَّ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" هُنَّ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ". فَوَدَّعْنَنَا عِنْدَ ذَلِكَ فَسُمِّيَتْ بِذَلِكَ: ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ. وَمَا كَانَتْ قَبْلَ ذَلِكَ إِلَّا ثَنِيَّةُ الرِّكَابِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَغَيْرُهُ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ روانہ ہوئے، ہمارے ساتھ وہ خواتین تھیں، جن کے ساتھ ہم متعہ کیا کرتے تھے یہاں تک کہ ہم روانگی والی پہاڑی کے پاس آ گئے، تو ہم نے کہا: یا رسول اللہ! یہ وہ خواتین ہیں، جن سے ہم متعہ کیا کرتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب یہ قیامت تک کے لئے حرام ہو گئی ہیں، پھر ان خواتین نے ہمیں وہاں سے رخصت کر دیا، اس وجہ سے اس گھائی کا نام ثنیہ الوداع رکھا گیا، حالانکہ اس سے پہلے یہ ثنیۃ الرقاب (یعنی سواروں کی گھاٹی) ہوتی تھی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ ہے، جسے امام ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے امام أحمد اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7386]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7387
وَعَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ الْحَكَمِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنِ الْمُتْعَةِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَرِيكٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.
سیدنا ثعلبہ بن حکم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر متعہ سے منع کر دیا تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، صرف شریک کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7387]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7388
وَعَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: أَتَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَأْمُرُ بِنِكَاحِ الْمُتْعَةِ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: سُبْحَانَ اللَّهِ مَا أَظُنُّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَفْعَلُ هَذَا! قَالُوا: بَلَى إِنَّهُ يَأْمُرُ بِهِ. قَالَ: وَهَلْ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَّا غُلَامًا صَغِيرًا إِذْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟، ثُمَّ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: نَهَانَا عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا كُنَّا مُسَافِحِينَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا الْمُعَافَى بْنَ سُلَيْمَانَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.
سالم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے کہا: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نکاح متعہ کی اجازت دیتے ہیں، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: سبحان اللہ! ابن عباس کے بارے میں میرا یہ گمان نہیں تھا کہ وہ ایسا کرتے ہوں گے، لوگوں نے عرض کی: جی ہاں! وہ ایسا کرتے ہیں تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے تو اس وقت ابن عباس کمسن لڑکے تھے، پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع کر دیا تھا اور اب ہم زنا کرنے والے نہیں ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، صرف معافی بن سلیمان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7388]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7389
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْمُتْعَةِ فَقَالَ: حَرَامٌ. فَقِيلَ: إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ لَا يَرَى بِهَا بَأْسًا؟ فَقَالَ: وَ [ ايْمُ ] وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْهَا يَوْمَ خَيْبَرَ وَمَا كُنَّا مُسَافِحِينَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْصُورُ بْنُ دِينَارٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے: اُن سے متعہ کے بارے میں دریافت کیا گیا: تو انہوں نے فرمایا: یہ حرام ہے، ان سے کہا: گیا: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تو اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ہیں، انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! ابن عباس یہ بات جانتے ہیں کہ غزوہ خیبر کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کر دیا تھا اور ہم لوگ زنا کرنے والے نہیں ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی منصور بن دینار ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7389]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12145)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7390
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: وَإِنَّمَا كَانَتْ لِمَنْ لَمْ يَجِدْ فَلَمَّا نَزَلَ النِّكَاحُ وَالطَّلَاقُ وَالْعِدَّةُ وَالْمِيرَاثُ نُهِيَ عَنْهَا.
قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: یہ حکم اس شخص کے لئے تھا جو گنجائش نہیں پاتا تھا، لیکن جب نکاح، طلاق، عدت اور وراثت کے احکام آ گئے، تو پھر اس سے منع کر دیا گیا۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: صحیح میں اس کا ابتدائی حصہ منقول ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7390]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7391
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ: تَكَلَّمَ عَلِيٌّ وَابْنُ عَبَّاسٍ فِي مُتْعَةِ النِّسَاءِ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: إِنَّكَ امْرُؤٌ تَائِهٌ. إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ.
قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ النَّهْيُ عَنْهَا يَوْمَ خَيْبَرَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
محمد بن حنفیہ بیان کرتے ہیں: خواتین کے ساتھ متعہ کرنے کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے درمیان بات چیت ہوئی، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم ایک گمراہ شخص ہو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے سے منع کر دیا تھا۔
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: صحیح میں
یہ روایت مذکور ہے: غزوہ خیبر کے موقع پر اس سے منع کیا گیا تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7391]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7392
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: أَتَدْرِي مَا صَنَعْتَ وَبِمَا أَفْتَيْتَ؟ سَارَتْ بِفُتْيَاكَ الرُّكْبَانُ وَقَالَتْ فِيهِ الشُّعَرَاءُ. قَالَ: وَمَا قَالُوا؟ قُلْتُ: قَالُوا:
قَدْ قَالَ لِلشَّيْخِ لَمَّا طَالَ مَجْلِسُهُ يَا صَاحِ هَلْ لَكَ فِي فُتْيَا ابْنِ عَبَّاسِ.
هَلْ لَكَ فِي رَخْصَةِ الْأَطْرَافِ آنِسَةٍ
تَكُونُ مَثْوَاكَ حَتَّى مَصْدَرِ النَّاسِ.
فَقَالَ: إِنَّا لِلَّهِ، وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ. وَاللَّهِ مَا بِهَذَا أَفْتَيْتُ، وَلَا هَذَا أَرَدْتُ، وَلَا أَحْلَلْتُ مِنْهَا إِلَّا مَا أَحَلَّ اللَّهُ مِنَ الْمَيْتَةِ وَالدَّمِ وَلَحْمِ الْخِنْزِيرِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے کیا کیا ہے؟ اور آپ نے کیا فتویٰ دیا ہے؟ سواروں نے آپ کا فتویٰ پھیلا دیا ہے، اور اس کے بارے میں شاعروں نے شعر بھی کہے ہیں، انہوں نے دریافت کیا: ان شاعروں نے کیا کہا: ہے؟ میں نے جواب دیا: ان شاعروں نے یہ کہا: ہے: اس نے بزرگ سے کہا: جب اس کی ہم نشینی طویل ہو گئی کہ اے شخص! کیا تمہیں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے فتوی میں دلچسپی ہے؟ کیا تم رخصت میں دلچسپی رکھتے ہو کہ وہ تمہارا ٹھکانہ ہو جائے، جب تک لوگ واپس نہیں آتے۔ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: انا للہ وانا الیہ راجعون، اللہ کی قسم! میں نے یہ فتویٰ نہیں دیا، اور نہ ہی میں نے یہ ارادہ کیا ہے، اور نہ ہی میں نے اس حوالے سے کسی ایسی چیز کو حلال قرار دیا ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے حلال قرار نہ دیا ہو، اس کا تعلق مردار، یا خون، یا خنزیر کے گوشت سے ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7392]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10601)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں