مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. بَابُ نِكَاحِ التَّحْلِيلِ .
نکاح حلالہ کا بیان
حدیث نمبر: 7404
وَعَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ: إِنَّ خَالِيَ فَارَقَ امْرَأَتَهُ فَدَخَلَهُ مِنْ ذَلِكَ هَمٌّ وَأَمْرٌ وَشُقَّ عَلَيْهِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَهَا، وَلَمْ يَأْمُرْنِي بِذَلِكَ، وَلَمْ يَعْلَمْ بِهِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَا إِلَّا نِكَاحَ غِبْطَةٍ إِنْ وَافَقَتْكَ أَمْسَكْتَ، وَإِنْ كَرِهَتْ فَارَقْتَ، وَإِلَّا فَإِنَّا نَعُدُّ هَذَا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِفَاحًا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
نافع، جو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام ہیں: وہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا: اس نے کہا: میرے ماموں نے اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کر لی ہے، اب وہ اس معاملے میں غمگین اور پریشان ہیں اور یہ بات اس پر گراں گزر رہی ہے، میں نے یہ ارادہ کیا ہے، میں اس خاتون کے ساتھ شادی کر لیتا ہوں (پھر اسے طلاق دے کر ماموں کے لئے حلالہ کروا دوں گا) میرے ماموں نے مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا اور انہیں اس بات کا پتہ بھی نہیں ہے، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جی نہیں! نکاح صرف وہ ہوتا ہے، جو بقاء کی نیت سے ہو، اگر وہ تمہیں موافق آ جائے، تو تم اسے روک کے رکھو، اور اگر وہ عورت تمہیں ناپسند ہو، تو تم علیحدگی اختیار کر لینا، اس کے علاوہ کچھ نہیں، اس چیز کو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زنا شمار کرتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب النكاح/حدیث: 7404]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب النكاح/حدیث: 7404]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
Majma al-Zawa'id Hadith 7404 in Urdu