🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
43. بَابُ الصَّدَاقِ .
مہر کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7502
وَعَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: رَكِبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْبَرَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَا إِكْثَارُكُمْ فِي صَدَاقِ النِّسَاءِ، وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ، وَإِنَّمَا الصَّدُقَاتُ فِيمَا بَيْنَهُمْ أَرْبَعُمِائَةِ دِرْهَمٍ فَمَا دُونَ ذَلِكَ. فَلَوْ كَانَ الْإِكْثَارُ فِي ذَلِكَ تَقْوَى عِنْدَ اللَّهِ أَوْ مَكْرُمَةً لَمْ تَسْبِقُوهُمْ إِلَيْهَا فَلَا أَعْرِفَنَّ مَا زَادَ رَجُلٌ عَلَى أَرْبَعِمِائَةِ دِرْهَمٍ. قَالَ: ثُمَّ نَزَلَ فَاعْتَرَضَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَتْ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ نَهَيْتَ النَّاسَ أَنْ يَزِيدُوا النِّسَاءَ فِي صَدُقَاتِهِمْ عَلَى أَرْبَعِمِائَةِ دِرْهَمٍ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَتْ: أَمَا سَمِعْتَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ؟ فَقَالَ: فَأَنَّى ذَلِكَ؟ قَالَتْ: أَمَا سَمِعْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: (وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا أَتَأْخُذُونَهُ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا) فَقَالَ: اللَّهُمَّ غُفْرًا، كُلُّ النَّاسِ أَفْقَهُ مِنْ عُمَرَ.
قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ فَرَكِبَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ أَنْ تَزِيدُوا النِّسَاءَ فِي صَدُقَاتِهِنَّ عَلَى أَرْبَعِمِائَةِ دِرْهَمٍ فَمَنْ شَاءَ أَنْ يُعْطِيَ مِنْ مَالِهِ مَا أَحَبَّ - قَالَ أَبُو يَعْلَى: قَالَ: وَأَظُنُّهُ قَالَ - فَمَنْ طَابَتْ نَفْسُهُ فَلْيَفْعَلْ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.
مسروق بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر چڑھے، پھر انہوں نے فرمایا: اے لوگو! تم لوگوں نے عورتوں کے مہر کتنے زیادہ کر دیے ہیں؟ حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کا معاملہ بھی تھا، اُن حضرات کے مہر چار سو درہم یا اس سے کم ہوا کرتے تھے، اگر مہر کا زیادہ ہونا، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تقویٰ کی نشانی ہوتی، یا عزت افزائی کی نشانی ہوتی، تو تم ان حضرات سے سبقت نہ لے جاتے، اس لئے اب میں کسی ایسے شخص کو نہ پاؤں، جس نے چار سو سے زیادہ مہر دیا ہو، راوی کہتے ہیں: پھر وہ منبر سے نیچے اتر گئے، قریش سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ان کے سامنے آئیں اور بولیں: اے امیرالمؤمنین! آپ نے لوگوں کو اس بات سے منع کر دیا ہے، کہ وہ چار سو درہم سے زیادہ مہر دیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں! اس خاتون نے کہا: کیا آپ نے وہ بات نہیں سنی ہے، جو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نازل کی ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کون سی بات؟ اس نے کہا: کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے: اگر تم اُن میں سے کسی ایک کو ڈھیر دے دو، تو اس میں سے کچھ بھی نہ لو، کیا تم بہتان اور واضح گناہ کے طور پر اُسے لو گے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ! تجھ سے مغفرت کا سوال ہے، ہر شخص عمر سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ واپس آئے دوبارہ منبر پر چڑھے اور بولے: میں نے تمہیں اس بات سے منع کیا تھا کہ عورتوں کو چار سو درہم سے زیادہ مہر نہیں دینا ہے، اب تم میں سے جو شخص جتنا پسند کرے، اتنا مہر دیدے۔ ابویعلی کہتے ہیں: میرا خیال ہے: روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: آدمی کو جس سے تسلی ہو، وہ ویسا ہی کر لے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب النكاح/حدیث: 7502]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف

Majma al-Zawa'id Hadith 7502 in Urdu