مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوَلِيِّ وَالشُّهُودِ .
ولی اور گواہوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 7513
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا صَدَاقُهَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا وَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا، وَإِنْ كَانَ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حَمْزَةُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حَمْزَةُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جس عورت کے ساتھ، اس کے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیا جائے، تو اس عورت کا نکاح باطل شمار ہو گا، اگر مرد نے اس کے ساتھ صحبت کر لی ہو، تو مرد نے اس کی شرمگاہ کو حلال کیا ہے، اس وجہ سے عورت کو مہر ملے گا، لیکن ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دی جائے گی، اور اگر مرد نے اس کی رخصتی نہیں کروائی تھی، تو پھر ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دی جائے گی، اور سلطان اس کا ولی ہوتا ہے، جس کا کوئی ولی نہ ہو“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حمزہ بن ابوحمزہ ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب النكاح/حدیث: 7513]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حمزہ بن ابوحمزہ ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب النكاح/حدیث: 7513]
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
Majma al-Zawa'id Hadith 7513 in Urdu