🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

47. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوَلِيِّ وَالشُّهُودِ .
ولی اور گواہوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7511
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَا يُنْكَحُ النِّسَاءُ إِلَّا مِنَ الْأَكْفَاءِ، وَلَا يُزَوَّجَهُنَّ إِلَّا الْأَوْلِيَاءُ، وَلَا مَهْرَ دُونَ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ".
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُبَشِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: خواتین کی شادی صرف کفو میں کی جائے، اور ان کی شادی صرف اولیاء کریں، اور دس درہم سے کم مہر نہیں ہو گا۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی مبشر بن عبید ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7511]

الحكم على الحديث: ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7512
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَزَوَّجَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيٍّ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو يَعْقُوبُ غَيْرُ مُسَمَّى، فَإِنْ كَانَ هُوَ التَّوْأَمَ، فَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ فَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو عورت ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرتی ہے، اس کا نکاح باطل ہوتا ہے، اس کا نکاح باطل ہوتا ہے، اگر مرد نے اس کے ساتھ صحبت کر لی، تو مرد نے اس کی شرمگاہ کو حلال کیا ہے، اس وجہ سے عورت کو مہر ملے گا، اور سلطان اُس کا ولی ہوتا ہے، جس کا کوئی ولی نہ ہو۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابویعقوب ہے (جس کی کنیت ذکر ہوئی ہے اور) اس کا نام ذکر نہیں ہوا ہے، اگر تو یہ توام ہے، تو ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور یحیی بن معین نے اسے ضعیف کہا: ہے اور اگر یہ اس کے علاوہ ہے، تو میں اس سے واقف نہیں ہوں، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7512]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (877) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11494)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7513
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا صَدَاقُهَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا وَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا، وَإِنْ كَانَ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حَمْزَةُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جس عورت کے ساتھ، اس کے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیا جائے، تو اس عورت کا نکاح باطل شمار ہو گا، اگر مرد نے اس کے ساتھ صحبت کر لی ہو، تو مرد نے اس کی شرمگاہ کو حلال کیا ہے، اس وجہ سے عورت کو مہر ملے گا، لیکن ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دی جائے گی، اور اگر مرد نے اس کی رخصتی نہیں کروائی تھی، تو پھر ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دی جائے گی، اور سلطان اس کا ولی ہوتا ہے، جس کا کوئی ولی نہ ہو۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حمزہ بن ابوحمزہ ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7513]

الحكم على الحديث: ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7514
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ".
قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ خَلَا قَوْلَهُ:" وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا، اور سلطان اس کا ولی ہوتا ہے، جس کا کوئی ولی نہ ہو۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں:
یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے، تا ہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں: سلطان اُس کا ولی ہوتا ہے، جس کا کوئی ولی نہ ہو۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7514]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11298) اخرجه احمد فى المسند (2260)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7515
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ صَهْبَانَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن صہبان ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7515]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8121)»

الحكم على الحديث: ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7516
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ، فَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الرَّقِّيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا، اگر (اولیاء کا) باہمی طور پر اختلاف ہو جائے، تو سلطان اُس کا ولی ہو گا، جس کا کوئی ولی نہ ہو۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عثمان رقی ہے، وہ متروک ہے، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7516]

الحكم على الحديث: ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7517
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِإِذْنِ وَلِيٍّ مُرْشِدٍ أَوْ سُلْطَانٍ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رہنمائی کرنے والے (یعنی سمجھدار، یا مخلص) ولی، یا سلطان کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7517]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (525)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7518
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ إِلَّا بِإِذْنٍ وَلِيٍّ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ الْمَكِّيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عورت کا نکاح، ولی کی اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن قیس مکی ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7518]

الحكم على الحديث: ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7519
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيِّ وَشَاهِدَيْنِ وَمَهْرٍ مَا قَلَّ أَوْ كَثُرَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ولی، دو گواہوں، اور مہر کے بغیر نکاح نہیں ہوتا، خواہ وہ (مہر) کم ہو یا زیادہ ہو۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7519]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11343)»

الحكم على الحديث: إسناده تحقیق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7520
وَرَوَاهُ فِي الْأَوْسَطِ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" الْبَغَايَا اللَّاتِي يُزَوِّجْنَ أَنْفُسَهُنَّ، لَا يَجُوزُ نِكَاحٌ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْنِ وَمَهْرٍ مَا قَلَّ أَوْ كَثُرَ".
وَفِي إِسْنَادِهِمَا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
یہ روایت، امام طبرانی نے معجم اوسط میں بھی نقل کی ہے، وہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: فاحشہ عورتیں، اپنی شادی خود کرتی ہیں، ولی، دو گواہوں اور مہر کے بغیر نکاح درست نہیں ہوتا، خواہ وہ (مہر) کم ہو یا زیادہ ہو۔ ان دونوں کی سند میں ایک راوی ربیع بن بدر ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7520]

الحكم على الحديث: ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں