مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوَلِيِّ وَالشُّهُودِ .
ولی اور گواہوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 7522
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرٍ، فَإِنْ كَانَ هُوَ الْوَاسِطِيُّ الْكَبِيرُ فَهُوَ ثِقَةٌ وَإِلَّا فَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرٍ، فَإِنْ كَانَ هُوَ الْوَاسِطِيُّ الْكَبِيرُ فَهُوَ ثِقَةٌ وَإِلَّا فَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں، محمد بن عبدالملک کے حوالے سے ابوزبیر سے نقل کی ہے، اگر تو یہ واسطی ہے، تو پھر یہ ثقہ ہے، اور اگر یہ وہ نہیں ہے، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب النكاح/حدیث: 7522]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں، محمد بن عبدالملک کے حوالے سے ابوزبیر سے نقل کی ہے، اگر تو یہ واسطی ہے، تو پھر یہ ثقہ ہے، اور اگر یہ وہ نہیں ہے، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب النكاح/حدیث: 7522]
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
Majma al-Zawa'id Hadith 7522 in Urdu