🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
82. بَابُ الْغَيْرَةِ .
غیرت (مزاج کی تیزی) کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7730
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: (وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا) قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، وَهُوَ سَيِّدُ الْأَنْصَارِ: أَهَكَذَا نَزَلَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَا تَسْمَعُونَ مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ؟" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا تَلُمْهُ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ غَيُورٌ، وَاللَّهِ مَا تَزَوَّجَ امْرَأَةً قَطُّ إِلَّا بِكْرًا، وَلَا طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ قَطُّ فَاجْتَرَأَ أَحَدٌ مِنَّا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا مِنْ شِدَّةِ غَيْرَتِهِ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّهَا حَقٌّ، وَأَنَّهَا مِنَ اللَّهِ، وَلَكِنِّي قَدْ تَعَجَّبْتُ أَنْ لَوْ وَجَدْتُ لَكَاعًا قَدْ تَفَخَّذَهَا رَجُلٌ لَمْ يَكُنْ لِي أَنْ أَهِيجَهُ، وَلَا أُحَرِّكَهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَا آتِي بِهِمْ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى أَطْوَلُ مِنْهُ، وَقَدْ أَذْكُرُهُ فِي اللِّعَانِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَمَدَارُهُ عَلَى عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: ”وہ لوگ جو پاکدامن عورتوں پر الزام عائد کرتے ہیں اور پھر چار گواہ نہیں لے کے آتے ہیں، تو تم انہیں اسی کوڑے لگاؤ اور تم ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرنا“۔ تو سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ جو انصار کے سردار تھے انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا یہ اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انصار کے گروہ! کیا تم سن نہیں رہے کہ تمہارا سردار کیا کہہ رہا ہے؟ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ انہیں ملامت نہ کریں وہ ایک غیور شخص ہیں اللہ کی قسم! انہوں نے ہمیشہ کنواری لڑکی کے ساتھ ہی شادی کی ہے، اور جب بھی انہوں نے کسی بیوی کو طلاق دی، تو ہم میں سے کسی کی یہ جرات نہیں ہوئی کہ اس خاتون کے ساتھ شادی کرے اس کی وجہ ان کے مزاج کی شدت ہے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں یہ بات جانتا ہوں کہ یہ بات حق ہے، اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، لیکن مجھے اس بات پر حیرت ہو رہی ہے کہ اگر میں کسی شخص کو پاتا ہوں کہ وہ عورت کے زانوں کے قریب پہنچ چکا ہے، تو مجھے یہ حق نہیں ہو گا کہ اس پر حملہ کروں یا اسے حرکت دوں جب تک میں چار گواہ نہیں لے آتا اللہ کی قسم! میرے چار گواہ لانے تک وہ اپنی حاجت پوری کر چکا ہو گا“۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ امام ابویعلیٰ نے اس سے زیادہ طویل روایت کے طور پر نقل کیا ہے میں اسے لعان سے متعلق باب میں ذکر کروں گا، اگر اللہ نے چاہا اس روایت کا مدار عباد بن منصور پر ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب النكاح/حدیث: 7730]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2740) اخرجه احمد فى المسند (238/1)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف

Majma al-Zawa'id Hadith 7730 in Urdu